انٹرنیٹ پر اقبال ظفرالدین احمد کا نام ڈھونڈیں گے تو آپ کو ایسی کئی کہانیاں مل جائیں گی کہ کیسے ایک شخص نے پاکستان میں توانائی کے شعبے خاص طور گیس کے کاروبار کو ہائی جیک کرلیا، ان کی کرپشن سے متعلق بھی کئی کہانیاں ملیں گی. آپ ان سے ملیں‌ تو آپ کو ایک ایسے انسان کی کہانی کا علم ہوگا جس نے چھوٹے سے کاروبار سے کام شروع کیا اور کئی طرح کی رکاوٹوں سے گزر کر ملک کے بڑے کاروباری افراد میں شامل ہوگیا. اس شخص کا دونوں‌ میں‌ سے کونسا رُخ ٹھیک ہے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے.

ان کی کمپنی ایسوسی ایٹڈ گروپ (Associated Group) قدرتی گیس، توانائی، میڈیا ارکیٹیکچر ڈیزائن تک کاروبار کررہی ہے اور اب انہوں‌ نے ایوی ایشن میں بھی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے.

اقبال زیڈ احمد کیلئے کئی مشکلات اور آزمائشوں پر مبنی یہ ایک ناہموار سفر رہا ہے لیکن انہوں نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ان کے اپنے ہی الفاظ میں وہ خطرہ مول لینے اور چیلنجز قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں. اکثر انہیں ‘گیس کنگ آف پاکستان’ کہا جاتا ہے اس کے ساتھ وہ تنازعات کے بھی بادشاہ ہیں. جامشورہ جوائنٹ وینچر اور ایل پی جی کوٹہ سکینڈل کی وجہ سے ان کا نام شہ سرخیوں میں رہا.

تاہم دیگر بڑے کاروباری افراد کے برعکس اقبال ظفرالدین احمد اپنے تنازعات کی وجہ سے ہونے والی تنقید کو دلیل کیساتھ رد کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نقاد بغیر حقائق جانے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‌ اور وہ تمام ثبوتوں کیساتھ ہر طرح کی وضاحت دینے کو تیار ہیں.

مثال کے طور پر اس انٹرویو کے دوران اقبال احمد سے پوچھا گیا کہ کیا اکبر ایسوسی ایٹس کے چیف ایگزیکٹو جمال اکبر انصاری جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ میں ان کے شراکت دار تھے؟ یہ سوال اس لیے آ گیا کیونکہ جمال اکبر انصاری نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے اقبال ظفرالدین احمد اور جامشور جوائنٹ وینچر سمیت انکے کاروبار سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا.

تاہم اقبال احمد نے تصدیق کی کہ انصاری مذکورہ جوائنٹ وینچر میں ان کے ساتھ شامل تھے، اپنی بات کی توثیق کیلئے انہوں نے انصاری کو فوری ٹیلیفون بھی کردیا.

ٹیلیفون کال میں، جس کی تصدیق “منافع” بھی کرتا ہے، انصاری نے بھی جامشورو جوائنٹ وینچر میں حصہ دار ہونے کی تصدیق کی، انہوں نے کہا کہ وہ مذکورہ کمپنی میں آغاز سے ہی 10 فیصد شیئرز کے مالک ہیں.

جمال اکبر انصاری دوسرے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کا سرکاری ٹھیکہ حاصل کرنے کی دوڑ میں اقبال ظفرالدین احمد کے حریف تھے تاہم وہ مذکورہ ٹھیکہ اس لیے حاصل نہ پائے کیونکہ انہوں نے جعلی بینک گارنٹی جمع کرائی تھی.

انصاری سے جب یہ سوال کیا گیا کہ انہوں نے پہلے جامشورو کمپنی میں شراکت سے کیوں انکار کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ “میڈیا نے ایک بار ان سے اکبر ایسوسی ایٹس کے جامشورو جوائنٹ وینچر میں حصہ دار ہونے سے متعلق پوچھا تھا، یہ دو مخلتف چیزیں ہیں، جوائنٹ وینچر میں اکبر ایسوسی ایٹس کے نہیں بلکہ میرے ذاتی حصص ہیں.”

انصاری سے بات ہونے کے بعد اقبال ظفرالدین احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “اگر کوئی تصدیق کرنا چاہتا ہے تو مجھ سے براہ راست کر سکتا ہے، میں بتائوں گا کہ حقائق کیا ہیں.”

معمولی آغاز:
اقبال ظفرالدین 1946ء میں ایک پولیس آفیسر کے ہاں پیدا ہوئے، ایچی سن کالج سے گریجویشن کے بعد گورنمبٹ کالج لاہور سے معاشیات میں ماسٹرز کیا، اس کے بعد کاروبار میں آگئے اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا.

ایچی سن کالج کے زمانہ سے ہی انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کاروبار کے علاوہ کچھ نہیں کرینگے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہی ایک چیز انہیں معاشرے اور معیشت میں نمایاں کرے گی. ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کاروبار کیلئے وقف کردی. انہوں نے بتایا کہ انکے پاس ملک سے باہر جانے کی آپشن موجود تھی لیکن انہوں نے والدین کے ساتھ رہنے اور ملک میں رہ کر کام کرنے کو ہی چنا.

تاہم وہ کہتے ہیں کہ انکا سفر خاصا مشکل رہا کیونکہ پاکستان میں نئے آئیڈیاز کو پسندیدگی کی نظر سے کم ہی دیکھا جاتا ہے. “نئے تصورات کیلئے کوئی مدد نہیں کرتا، سبھی مخالفت ہی کرتے ہیں، ایسا ہر جگہ ہی ہوتا ہے لیکن شائد پاکستان میں کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے.”

Associated Group کی بنیاد اقبال کے والد ظفرضیاء الدین احمد (Z. Z. Ahmed) نے پولیس سے ریٹائر ہونے کے بعد 1958 میں‌ رکھی، کاروباری شوق کی وجہ سے اقبال احمد اپنے والد کے ساتھ کام میں شامل ہو گئے جبکہ ابھی وہ طالبعلم تھے، گریجوایشن کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر کاروبار میں والد کی مدد کرنا شروع کردی.

علی آٹوز کے واجد علی شاہ نے جب اٹلی کے بنے ہوئے Lambretta سکوٹر کی ایک ایجنسی کنٹریکٹ پر دی تو اقبال احمد خاندان کا یہی پہلا کاروبار تھا. اپنے خاندانی کاروبار کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے اقبال ظفرالدین احمد نے کہا کہ “ہم نے ایک چھوٹی سی دکان سے کاروبار شروع کیا، اس وقت Lambretta اور Vespa سکوٹرز کا ایک دوسرا سے مقابلہ تھا، ہم نے لاہور میں Lambretta کی ایک ایجنسی لے لی اور کام کافی اچھا رہا.”

کچھ عرصہ بعد اس خاندان نے ٹیلی ویژن کے بزنس میں قسمت آزمائی کی جب وزیرعلی گروپ نے جاپانی کمپنی NEC Corporation سے ٹیلی ویژن بنانے کا لائسنس حاصل کیا. اقبال احمد نے بتایا کہ “وزیر علی گروپ نے ہمیں اپنا ایجنٹ بنا لیا، اللہ کے کرم سے ہمارا کام اچھا رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جاپانی کمپنی نے وزیر اعلی گروپ کی بجائے پاکستان میں ہمیں اپنا ایجنٹ بنا لیا. کاروبار اچھا چل رہا تھا جب جاپانی کمپنی نے اپنا ٹیلی ویژن کا بزنس بند کردیا اور کمپیوٹر وغیرہ کے کاروبار میں لگ گئی، اس طرح ہمیں بھی ٹیلی ویژن کا کاروبار بند کرنا پڑا.”

ایک وقت پر آکر انہوں نے ٹریکٹروں کا کاروبار شروع کردیا جو سربیہ کی ایک کمپنی انڈسٹری آف مشینز اینڈ ٹریکٹرز سے منگوائے جاتے تھے جس کے پاسد میسی فرگوسن کا لائسنس تھا. کاروبار اچھا چلر ہا تھا کہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت نے ٹریکٹر امپورٹ بزنس کو قومیا لیا، تمام ذمہ داریا کمپنی پر ہی رہیں تاہم ٹریکٹرز کی درآمدات حکومت کے ہاتھ میں آگئیں. اس نقصان کی وجہ سے 1980ء تک کام سست پڑا رہا جس کے بعد فیملی نے ٹریکٹرز کا کاروبار دوبارہ شروع کیا لیکن اس بار انہوں نے مقامی طور پر اس کی تیاری شروع کردی.

“ملت اور غازی اس وقت ٹریکٹرز بنا رہے تھے، ہم نے تیسرا پلانٹ لگایا جس کا افتتاح اس وقت صدر پاکستان ضیاء الحق نے کیا، ہمارا پلانٹ ٹریکٹروں کا اسمبلنگ پلانٹ تھا، میں وینڈر سسٹم بنانے کا کریڈٹ لوں گا جو بعد میں ٹریکٹروں کے پرزہ جات کی مقامی پیداوار میں بہت مددگار ثابت ہوا، یہ ایک اچھا آغآز تھا اور اس کام کی وجہ سے میں خوش ہوں.”

اقبال ظفرالدین نے آٹو موبائل مینوفیکچرنگ میں بھی قسمت آزمائی کرنا چاہی لیکن ناکام رہے، وہ برطانوی کار ساز کمپنی Morris کو پاکستان لانا چاہتے تھے. اس کوشش میں‌ ناکامی کے بعد 1989ء میں وہ گیس کے کاروبار میں داخل ہوئے اور لیکوئیفائیڈ پٹرولیم گیس (LPG) کی مارکیٹنگ کمپنی Lub Gas کے نام سے قائم کی. 1997ء میں ایسی ہی ایک اور ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنی مہران ایل پی جی کے نام سے قائم کی. تب سے کمپنی نے ایل پی جی سیکٹر میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی تگ و دو شروع کردی اور 2005 میں جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کے نام حیدرآباد کے نزدیک بدین گیس فیلڈ‌ میں ایل پی جی پروڈکشن پلانٹ لگایا.

اقبال احمد گیس سیکٹر میں جانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چونکہ ٹریکٹرز کا کاروبار کچھ مندا پڑ رہا تھا اور وہ ٹریکٹرز بھی سربیا سے منگوا رہے تھے جس پر کافی پابندیاں لگ چکی تھیں اس لیے انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا، تبھی انہوں نے انجینئرنگ سیکٹر کو چھوڑ کر کسی اور جگہ قسمت آزمائی کا سوچا اور اسی وقت انہیں ایل پی جی کے کاروبار میں ایک موقع مل گیا.

کمپنی کیلئے اہم ترین سنگ میل تب آیا جب سن 2000ء میں سوئی سدرن گیس کمپنی نے بدین گیس فیلڈ پر ایل پی جی پلانٹ لگانے کا اشتہار دیا. اقبال احمد نے بتایا کہ “1988ء سے 2000ء تک ایل پی جی پلانٹ لگانے کی 7 مرتبہ کوششیں ہو چکی تھیں لیکن کامیابی نہ ہوئی، یہ کوششیں اس لیے کامیاب نہیں ہوئی تھیں کیونکہ وہاں بہت زیادہ خطرہ تھا اور reservoir کی کوئی گارنٹی نہیں تھی. گیس فیلڈ کی اس وقت مالک Union Texas نے پلانٹ لگانے سے انکار کردیا، سرکاری کمپنی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن (OGDC) کو پلانٹ لگانے کا کہا گیا لیکن اس نے بھی انکار کردیا، سوئی سدرن نے بھی انکار کردیا. پہلی بار بولی کا اشتہار دیا گیا جو بغیر کسی وجہ کے منسوخ کردیا گیا، بعد میں دوسری اور تیسری بار بولی کا موقع آیا، جب آخری بار بولی لگی تو 9 پارٹیوں نے کوالیفائی کیا لیکن بولی ہمارے حصے میں آئی.”

ان کے الفاظ میں یہ کام اتنا پرخطر تھا کہ رزاق دائود جیسے لوگ جنہوں نے کامیاب بولی لگائی تھی وہ بھی یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ پروجیکٹ بے حد پیچیدہ اور خطرناک ہے.

لیکن اقبال احمد نے یہ خطرہ مول لیا اور ایل پی جی پلانٹ لگانا شروع کردیا، اگرچہ کئی کاروباری افراد نے انہیں اس پرخطر منصوبے سے باز رہنے کو کہا کیونکہ سلینڈر بنانے کیلئے ان کمپنیوں کو سرمایہ کاری کرنا پڑتی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ان کمپنیوں کا لگتا تھا کہ پروجیکٹ ناکام ہو جائیگا.

“انہوں نے ہمیں بتایا کہ پلانٹ تین وجوہات کی بناء پر ناکام ہو جائیگا. پہلی وجہ یہ کہ ہم اس کاروبار سے واقف نہیں، دوسری وجہ یہ کہ گیس کے ذخائر پر کافی خطرہ تھا کیونکہ پیداوار تیزی سے کم ہو جائیگی، تیسری وجہ یہ کہ حکومتی پالیسیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے موزوں نہیں اسی لیے کوئی دوسرا اس شعبے میں سرمایہ کاری نہیں‌ کر رہا. اگر پالیسیاں ٹھیک ہوتیں تو ضرور کوئی نہ کوئی اس شعبے میں سرمایہ کاری کرتا.”

اقبال احمد کے پاس Lub اور مہران مارکیٹنگ کمپنیوں کی شکل میں سیلز اور ڈسٹربیوشن کمپنیاں موجود پہلے سے تھیں. انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ لوگوں تک توانائی کی سہولت بہم پنچانے کا ایک بڑا موقع تھا اس لیے انہوں نے یہ خطرہ مول لیا اور جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کے نام پروڈکشن پلانٹ لگا دیا، اس کے ساتھ اعتماد کرنے والے دوستوں اور لوگوں کیساتھ ملکر 30 مارکیٹنگ کمپنیاں بنائیں.

انہوں نے مزید کہا کہ گیس فیلڈ سے گیس لیکر پلانٹ پر ہم ایل پی جی تیا رکرنے لگے اور مارکیٹنگ کمپنیوں کا کوٹہ مقرر کردیا تاکہ جہاں گیس کی پائپ لائنیں جہاں جاتی وہاں کے صارفین کو گیس کی سہولت مل سکے. ذاتی دو کمپنیوں‌ اور دوستوں کیساتھ بنائی کمپنیوں کی وجہ سے ایل پی جی کی سیلز اور ڈسٹری بیوشن کا اچھا خاصا نیٹ ورک بن گیا.

گوکہ کاروبار عروج پر تھا لیکن کچھ فوجی جنرلوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں کیلئے، جو کہ اقبال احمد کے دوست تھے، کوٹے مختص کرنے کی وجہ سے کافی تنقید کی زد میں آیا، ان پر تنقید صرف اس لیے نہیں ہوئی کہ انہوں نے دوستوں کیلئے کوٹے مختص کر رکھے تھے بلکہ ان پر الزامات لگائے گئے کہ عام صارفین کیلئے قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھائی جاتی ہیں.

2009ء میں یہ الزامات اس وقت ثابت ہو گئے جب ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کیساتھ ملکر مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھانے کی وجہ سے جامشورو جوائنٹ وینچر کو مسابقتی کمیشن آف پاکستان (Competition Commission of Pakistan) نے 278 ملین روپے جرمانہ کیا.

اپنے طورپر اقبال احمد اب بھی کسی غلط کام سے انکار کرتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ اپنے جنرل اور سیاستدان دوستوں‌ کو گیس کے کوٹے دینے کی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بنے. “میرا جواب بہت سادہ ہے، آپ یہی سوال ایک ٹویوٹا گاڑی بنانے والے سے یا سیمنٹ بنانےوالے سے یا پھر گھی بنانے والے سے کیوں نہیں‌ کرتے؟ یہ میری پروڈکٹ ہے. کونسی ایسی شرط ہے کہ میں ‌A کو کوٹہ دے سکتا ہوں B کو نہیں دے سکتا؟ یا C کو دے سکتا ہوں اور D کو نہیں؟ کوٹے کیلئے صرف اور صرف اوگرا کا لائسنس ہونا ضروری ہے، اگر میں نے اس کی خلاف ورزی کی ہے تو مجھے پھانسی پر چڑھا دیں.”

اقبال ظفرالدین احمد کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف ریٹائرڈ جنرلز کو کوٹے دیے وہ بھی جو انکے دوست تھے، انہوں‌ نے کہا کہ وہ خواتین اور نوجوانوں‌ کو اِس کاروبار میں‌لیکر آئے. ان کے جوائنٹ وینچر کی سرمایہ کاری اور اس کے بعد حکومت کی پالیسی بننے کے نتیجے میں ایل پی جی سیکٹر میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری ہوئی.

“جہاں تک مسابقتی کمیشن کا تعلق ہے انہوں نے اس وقت ہر کسی کو جرمانہ کیا، مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ کمیشن اس وقت پاگل ہو گیا تھا. انہوں نے بینکنگ کونسل، بینکنگ ایسوسی ایشن، سیمنٹ ایسوسی ایشن، ایل پی جی ایسوسی ایشن کو جرمانے کیے، اور چونکہ یہ جعلی جرمانے تھے تو کسی نے ایک پائی ادا نہیں کی، ہر کسی نے سٹے لے لیا اور کچھ بھی نہیں ہو سکا، میں اکیلا نہیں ہوں ہر کسی کو جرمانہ ہوا.” انہوں نے مزید کہا کہ ایل پی جی ایسوسی ایشن میں کم و بیش 100 کمپنیاں ہیں جن کا ایک دوسری سے مقابلہ رہتا ہے تو ان کے درمیان قیمتیں بڑھانے کیلئے کسی قسم کا خفیہ تعاون خارج از امکان ہے.

اقبال احمد 2006ء سے 2010ء تک کے دور کی بات کر رہے تھے جب مسابقتی کمیشن کے سربراہ معروف بیوروکریٹ اور ورلڈ بینک کے سابق ملازم خالد مرزا تھے انہوں نے بلا خوف و خطر کم و بیش تمام اداروں میں شخصی اجارہ داری کیخلاف اقدمات کیے اور بالآخر انہیں 2010ء میں سابق صدر آصف علی زرداری کی حکومت نے برطرف کردیا کیونکہ مضبوط کاروباری لابی انکے خلاف ہو چکی تھی.

تب سے کمپی ٹیشن کمیشن کمپنیوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کرسکا اور اس کے کیس عدالتوں میں سالوں تک پھنسے رہتے ہیں.

اقبال ظفرالدین احمد نے سوال اٹھایا کہ “کوئی جج اس ہر کچھ کہنے کے قابل نہیں ہے، تین مختلف مواقع پر کیس چلے، دلائل مکمل ہوئے لیکن فیصلے سے قبل جج کو سپریم کورٹ کو لگا دیا گیا. اگر مسابقتی کمیشن کو اتنے ہی تحفظات ہیں تو وہ عدالت میں جا کر فیصلے جلدی کرنے کا کیوں‌ نہیں‌ کہتا؟ یا سالوں سے زیر التواء کیسوں کے جلدی فیصلے کیلئے درخواست کیوں نہیں دیتا؟ عوامی مفاد پر مقدمہ بازی ہو رہی ہے، آئیں ایک ہی بار فیصلہ کرلیں.”

تاہم ایسوسی ایٹڈ گروپ کی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوئیں بلکہ 2013ء میں‌ سپریم کورٹ نے جامشورو جوائنٹ وینچر کو ہی کالعدم قرار دے دیا جب معلوم ہوا کہ سوئی سدرن اور جامشور جوائنٹ وینچر میں پلانٹ لگانے کا معاہدہ دھاندلی زدہ تھا اور سوئی سدرن کو اس کی رائلٹی ادا کی گئی جس کی وجہ سے سرکاری کمپنی کو 22 ارب روپے کا نقصان ہوا.

عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ بھاری نقصان سوئی سدرن کو اس لیے اٹھانا پڑا کیونکہ رائلٹی کی جو رقم ایل پی جی کی درآمدی قیمت کے مطابق ادا کی جانی تھی وہ جامشورو جوائنٹ وینچر نے مقامی قیمت کے مطابق ادا کی. جوائنٹ وینچر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے رائلٹی کی ادائیگی کیلئے سوئی سدرن کے ساتھ درآمدی قیمت کا کوئی فارمولا طے ہی نہیں‌ کیا بلکہ اگر درآمدی قیمت کے مطابق ہی رائلٹی کی ادائیگی کر دیت تو مارکیٹ میں دوسری کمپنیوں‌کا مقابلہ نہ کر پاتے.

اس پر گفتگو کرتے ہوئے اقبال ظفرالدین احمد نے کہا کہ “آپ ایک پروڈکٹ پاکستان میں بناتے ہیں اور پاکستان میں ہی فروخت کرتے ہیں، ایل پی جی کی قیمت سرکاری ایجنسیاں طے کرتی تھٰیں اور یہ قیمت ملک میں سب سے زیادہ تھی، اس وقت ایل پی جی کے سب سے بڑے پیداواری ادارے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور پارکو تھے. یہی لوگ قیمتوں کا تعین کرتے تھے. ہم صرف ان کے مطابق چلتے تھے. اگر تو مجھے اس پر کوئی رعایت مل رہی ہوتی تو پھر میں غلط ہوں، میں ایک چیز زیادہ قیمت پر کیسے بیچ سکتا ہوں جبکہ مارکیٹ میں وہی چیز سستی مل رہی ہو. اگر میں مہنگی بیچوں گا تو دیگر کمپنیوں‌ کے مقابلے میں پیچھے رہ جائوں گا لیکن کوئی شخص یہ تفصیلات نہیں دیکھتا.”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا غلط ہو گا کہ صرف وہی فائدہ اٹھاتے رہے بلکہ پوری انڈسٹری نے فائدہ اٹھایا اور یہی پالیسی تھی.

مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف پانی و بجلی کے وزیر بنے تو انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ ایل پی جی پلانٹ لگانے کیلئے کی گئی بولی کا عمل غلط اور ناقص تھا کیونکہ بولی کیلئے جو ایک لاکھ روپے کی رقم جمع کرائی جانی تھی وہ مقررہ تاریخ کے بعد جمع کرائی گئی.
اسد کی وضاحت کرتے ہوئے اقبال ظفرالدین نے کہا کہ “ہم نے بانڈ کے بغیر بولی لگائی تاہم بانڈ اسی تاریخ کو جاری ہوا تھا، جس کی ہم نے ایک کابی ساتھ لف کردی تھی،پی آئی اے کی فلائیٹ میں تاخیر کی وجہ سے اصل بانڈ اگلے دن مل سکا، اس کے علاوہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ کیساتھ ہماری میٹنگ ہوئی، وہ بولی منسوخ کرسکتے تھے جیسا کہ وہ پہلے تین بار کر چکے تھے.”

اقبال احمد نے وضاحت کی کہ اگر سوئی سدرن ایل پی جی پلانٹ لگانے کی مذکورہ بولی بھی منسوخ کردیتی تو پلانٹ لگانے کے حقوق برٹش پٹرولیم کے پاس چلے جاتے کیونکہ ایک معاہدے کے تحت سوئی سدرن کے پاس 2003ء تک ایل پی جی بنانے کے منصوبوں کے حقوق تھے جو بعد میں برٹش پٹرولیم کو منتقل ہو جانے تھے. اس صورت میں رائلٹی کی ساری رقم جو کہ 49 ارب روپے تھی وہ زیرو ہو جاتی.

انہوں‌ نے کہا کہ “ان چیزوں کو کوئی نہیں دیکھتا، میرا مطلب ہے کہ کہ یہ چیزیں‌ ٹی وی ٹاک شوز میں گفتگو کیلئے تو اچھی نہیں لیکن برائے مہربانی حقائق کو بھی دیکھیں. میرے ساتھ ایک کاغذ لیکر بیٹھ جائیں اور میں بتا دوں گا کہ کتنا فائدہ تھا اور کتنا نہیں تھا اس کے بعد کسی ماہر کو فیصلہ کرنے دیں.”

ہم نے اس منصوبے کے زریعے غیر ملکی زرمبادلہ کی مد میں ایک ارب ڈالر بچائے اور 5 ہزار نوکریاں پیدا کیں.

خواجہ آصف پلانٹ لگنے کے دس سال بعد کیوں عدالت گئے اس کا علم اقبال احمد کو نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں خواجہ آصف سے کوئی گلہ نہیں، انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف ان کے دوست تھے، نامعلوم انہوں نے ایسا کیوں‌ کیا، مجھے ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں.

“منافع” سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے اقبال ظفرالدین احمد کیخلاف کیس ذاتی وجوہات کی بنا پر دائر نہیں کیا گیا تھا. اس سوال کے جواب میں کہ کیس پلانٹ لگنے کے قریباََ آٹھ سال بعد کیوں دائر کیاِگیا؟ خواجہ آصف نے کہا کہ قانونی نکتہ نظر سے انہیں براہ راست عدالت جانے کا حق نہیں‌ تھا بلکہ مسئلہ بارہا قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جس کے بعد ایک قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا. کمیٹی کے نتائج آنے پر وہ عدالت گئے تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت ان تجاویز پر عمل کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی.

تاہم خواجہ آصف نے کہا کہ ان کیسوں میں وہ خصوصی طور پر کسی کو نشانہ نہیں بنا رہے تھے، مشرف کے دور میں ہونے والے معاہدے میں جامشور جوائنٹ وینچر کو فائدہ پہنچایا گیا تھا، ہم نے بس لوٹ مار کو روکنے کی کوشش کی اگر ایسا نہ کرتے تو ایک پوائنٹ پر اسے روکنا نا ممکن ہو جاتا، انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہی انہوں‌ نے رینٹل پاور پلانٹس کیخلاف پٹیشن دائر کی جسے روکنے میں کامیاب بھی ہوئے.

رینٹل پاور پلانٹس:
2006ء میں ملک میں بجلی بحران پیدا ہوا تو مشرف حکومت کو چھوٹے پاور پلانٹس (رینٹل پاور پلانٹس) کو تین سال سے پانچ سال کا ٹھیکہ دیکر قومی گریڈ کیلئے بجلی پیدا کرنے کا خیال آیا، ان پاور پلانٹس میں پاکستان پاور ریسورسز نامی ایک کمپنی نے سرمایہ کاری کی جو اقبال ظفرالدین احمد کی تھی، 2012ء میں خواجہ آصف کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پلاٹنس کو غیر قانونی قرار دے دیا اور اپنے فیصلے میں ان پلانٹس کو لگانے کے ٹھیکوں کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے ختم کردیا.

تاہم اقبال احمد کہتے ہیں کہ منصوبہ سیاست زدہ ہو گیا کیونکہ اس کی اجازت مشرف حکومت نے دی تھی. پیپلز پارٹی اسے جاری رکھنا چاہتی تھی لیکن ن لیگ کی وجہ سے پوری ڈیل منسوخ ہو گئی.

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے طور پر اس کا فیصلہ سنایا، لیکن آپ ایک پائی کرپشن ثابت کردیں. مجھے بتائیں کہ کس نے کس کو رقم دی.

انہوں نے کہا کہ رینٹل پاور پلانٹس ایک اچھا خیال تھا، بنگلہ دیش اور بھارت کے علاوہ افریقہ میں بہت سے ممالک نے اس طریقے سے بجلی پیدا کی.

تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ یہ پلانٹس زیادہ موثر ثابت نہیں ہو رہے تھے، زیادہ ایندھن استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے تھرمل پاور پلانٹس سے بھی زیادہ مہنگے ثابت ہو رہے تھے لیکن اس وقت ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا یا تھوڑی بجلی پیدا ہوتی یا بالکل ہی نہ پیدا ہوتی اور ایک فیصد اضافی بجلی بھی معیشت کیلئے ایک ارب ڈالر کے برابر تھی.

اقبال احمد نے کہا کہ حقائق پر کوئی بھی نظر نہیں ڈالتا، ہم نے ایک بڑی سرمایہ کاری کی، ہم ساری رقم کی ادائیگی پہلے ہی کرچکے تھے اوراس وقت 12 فیصد سود ڈالروں کے حساب سے ادا کرچکے تھا. ہم نے کوئی 5 سے 6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی اور ساری رقم پہلے ہی ادا کر دی تھی لیکن سپریم کورٹ نے ڈیل منسوخ کردی. تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے.

جامشورو جوائنٹ وینچر اور رینٹل پاور پلانٹس کے بعد اقبال احمد نے ایل این جی کے کاروبار میں قدم رکھا اور انکی کمپنی Pakistan GasPort Consortium Ltd نے توانائی کی ایک بین الاقوامی کمپنی Trafigura Holdings Ltd کے ساتھ ملکر پورٹ قاسم کراچی پر ایل این جی کی درآمد کیلئے ایک ٹرمینل قائم کیا.

اس ٹرمینل میں پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ اور فوجی فائونڈیشن کی فوجی آئل ٹرمینل اینڈ ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ (FOTCO) اور ناروے کی ایک کمپنی BW Group نے ملکر سرمایہ کاری کی.

گوکہ ایسوسی ایٹڈ گروپ کا زیادہ تر کاروبار انرجی سیکٹر میں ہے تاہم یہ آرکیٹیکچر ڈیزائن، انجنیئرنگ اور میڈیا میں بھی کاروبار کر رہا ہے. ان کا گروپ Newsweek کے پاکستان ایڈیشن شائع کر رہا ہے اور ایک نیوز چینل شروع کرنے کی انکی خواہشات بھی ڈھکی چھپی نہیں‌ ہیں بلکہ 2012ء میں انہوں نے امریکی چینل سی این این کے ساتھ اشتراک کیلئے مذاکرات بھی کیے. سرمایہ کاری کرنے کیلئے اقبال زیڈ احمد کیلئے بھی یہ انڈسٹری بہترین تھی کیونکہ عموماََ بزنس مین میڈیا کے ذریعے اثرورسوخ بڑھاتے رہتے ہیں. میڈیا کے زریعے ناصرف وہ ناصرف کاروباری اور سیاسی مخالفین کیخلاف مہم چلا کر مفاد نکال سکتے ہیں بلکہ اپنے ایجنڈہ کے بارے میں پروپیگنڈہ بھی کرسکتے ہیں.

جامشورو جوائنٹ وینچر میں 52 فیصد شیئرز اقبال احمد کے پاس ہیں، کچھ ان کے دو بیٹوں کے پاس ہیں جبکہ 10 فیصد شیئرز کے مالک اکبر ایسوسی ایٹس ہیں.

ایل این جی ٹرمینل میں بھی اقبال احمد فیملی 52 فیصد شیئرز کی مالک ہے جبکہ دیگر دیگر دو شیئر ہولڈرز میاں عامر محمود اور سید یاور علی ہیں.

Lub Gas اور مہران ایل پی جی کے زیادہ تر شیئرز فیملی کے اندر ہی ہیں جبکہ کچھ شیئرز دیگر افراد کے پاس ہیں.

یہ گروپ تعلیم، صحت، سماجی ترقی اور آرٹس کے پروگراموں کیلئے زہرا اینڈ زیڈ زیڈ احمد فائونڈیشن کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی چلا رہا ہے. ان کے ایک بیٹے رضی احمد لاہور لٹریری فیسٹیول کے بانی ہیں جو ایک بڑا ادبی اور ثقافتی تہوار ہوتا ہے.

مستقبل کے منصوبے:
ایسوسی ایٹڈ گروپ سرکاری شمولیت کے بغیر اپنی نئی کمپنی پاکستان گیس سلیوشنز لمیٹڈ کے تحت Trafigura کے ساتھ ملکر نجی شعبے کیلئے ایک نیا ایل این جی ٹرمینل قائم کرنے جا رہا ہے جس کی ساری فنڈنگ بیرونی ہوگی.
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال احمد نے کہا کہ ان کے کنٹریکٹر نے حکومت کو 10 ماہ جبکہ Trafigura نے 12 ماہ کا وقت دیا ہے. انہوں نے کہا کہ وہ بالکل تیار ہیں جہاز، مالی وسائل، کنٹریکٹر سمیت تمام وسائل موجود ہیں، صرف پورٹ قاسم اتھارٹی کیساتھ جیٹی (Jetty) کا تعین ہونا باقی ہے.

اس منصوبے کیلئے، اقبال کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں سے کچھ بھی ادھار نہیں لیں بلکہ ہر چیز باہر سے آئے گی، ایل این جی درآمد کرنے کیلئے حکومتی شمولیت کی بجائے خود ایل این جی لاکر نجی خریداروں کو بیچنے کا منصوبہ بھی اس میں شامل ہے.

انہوں نے کہا کہ “ہم گیس ڈلیوری کا اپنا نظام بنائیں گے، ہم ورچوئل پائپ لائن کے ذریعے ڈلیوری کریںگے کیونکہ کسی بھی ٹرمینل کیلئے یہ مسئلہ ہے کہ گیس کی ٹرانسمیشن کراچی سے جنوب کی طرف ہوگی تیسری پائپ لائن ابھی تک بنی نہیں، موجودہ کپیسٹی مکمل استعمال ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ یہاں گیس کیسے لائی جائے گی؟ حکومت تو کام کرتے ہوئے وقت لگاتی ہے، اس لیے ہم پورٹ سے خریدار تک براہ راست گیس کی ڈلیوری کیلئے ورچوئل پائپ لائن سسٹم متعارف کرائیں گے جو کہ ایسے ہی مسائل سے نبردآزما ہونے کیلئے بنائی جاتی ہے.

دیگر منصوبوں کے علاوہ ایسوسی ایٹڈ گروپ نے ایک کمرشل لگژری ائیرلائن متعارف کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، یہ آل بزنس کلاس ائیرلائن اندرون ملک پروازیں چلائے گی، اس منصوبے میں 15 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی جائیگی.

اقبال احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ “ہم نے اس سروس کیلئے Embraer E-190 طیارے کا انتخاب کیا ہے جو 80 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے، ہم یکم جنوری 2020ء سے سروس کا آغاز کردیں گے. انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ہوا بازی کرنے اور پڑھنے کا شوق ہے اور وہ موجودہ ائیرلائنز اور ایک اچھی ائیرلائن میں فرق دکھانا چاہتے ہیں.