حکومت اگلا بجٹ مئی کے آخری ہفتے میں پیش کرے گی

211

سیکرٹری خزانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی ہدایت کی روشنی میں اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم ترامیم کے ساتھ اگلے ہفتے تک مکمل کر لی جائے گی.
اسلام آباد: اعلیٰ حکام نے بتایا کہ وفاقی بجٹ 19-2018ء اگلے مہینے کے آخری ہفتے میں پیش کیا جائے گا.
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری خزانہ یونس دھاگہ نے کہا کہ اگلے مالی بجٹ اور ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے وزارت نے کام کی رفتار کو تیز کر دیا ہے.
انہوں نے کہا “اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم جسے پہلی ہی کابینہ میں پیش کر دیا گیا ہے، مشیر وزیراعظم برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی ہدایات پر اگلے ہفتے تک ترامیم کے ساتھ مکمل کر لیا جائے گا.”
آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج پر مذاکرات کے بارے میں‌ بات کرتے ہوئے سیکرٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ حتمی مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد 27 اور 30 اپریل کے درمیان پاکستان کا دورہ کرے گا.
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لوگارڈ سے 26 اپریل کو چین میں ملاقات کریں گے. ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا اہتمام وفاقی حکومت اور آئی ایف کے اعلیٰ حکام نے کیا ہے.
اس وقت پاکستان‌ کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کا بھی سامنا ہے. کمیٹی کو ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دی گئی.
سیکرٹری خزانہ، چیئرمین وفاقی ریونیو بورڈ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے کمشنر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت برائے خارجی امور اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی پاکستان (نیکٹا) کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی.
اس اجلاس کی صدارت ایم این نے فیض اللہ نے کی. سیکرٹری خزانہ نے آگاہ کیا کہ رواں مالی سال کے دوران زراعت کے شعبے میں بینکوں سے سرمایہ کاری میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا “جولائی 2018ء سے فروری 2019ء کے دوران بینکوں نے زراعت کے شعبے کو 702 ارب روپے کے قرض فراہم کئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ سرمایہ کاری 570 ارب روپے تھی.”
پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے چیئرمین نے زراعت میں ترقی کیلئے خصوصی کمیٹی برائے زرعی اجناس کے دئیے گئے ورک پلان کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی اے آر سی پہلے ہی بجٹ 20-2019ء کیلئے تین ریسرچ اور ڈویلپمنٹ منصوبے پیش کر چکی ہے.
وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکرٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2018ء میں “پنجاب باسمتی رائس ویلیو چین اینالسز” کے عنوان سے معلوماتی ایکسرسائز کا انعقاد کیا. ایشیائی ترقیاتی بینک ہر قسم کی تکنیکی معاونت کے ساتھ پنجاب میں مستحکم زراعت کی ترقی پر کام کر رہا تھا.
انہوں نے کہا “یہ تکنیکی معاونت کا نتیجہ اگلے چند سالوں میں 10 کروڑ ڈالر کا قرض ہوگا.”
ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی بینک پنجاب سندھ اور خیبر پختونخوا میں متعدد زرعی منصوبوں کی فنڈنگ کر رہا تھا.
کمیٹی نے وزارت اور پی اے آر سی کو زرعی شعبے میں ریسرچ اور ترقی میں بہتری کیلئے اپنی سفارشات کے ساتھ ایک جامع پریزینٹیشن تیار کرنے کی ہدایت دی. کمیٹی نے وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کو خصوصی کمیٹی برائے زرعی اجناس کے دیئے گئے ایجنڈے کی روشنی میں کاغذات تیار کرنے کی ہدایت کی.