انٹرنیٹ کی معطلی، ٹیلی کام آپریٹرز کو ایک دن میں 82 کروڑ روپے نقصان

415

لاہور: ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں موبائل براڈ بینڈ سروسز کی معطلی کے بعد ایک دن میں ٹیلی کام آپریٹرز کو 82 کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے جس سے حکومت کو ٹیکس آمدن میں تقریباً 28.7 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کے فوراً بعد حکومت نے امن عامہ کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کو بلاک کر دیا جس سے عوام کو رابطے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ کئی علاقوں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، آتش زدگی، فائرنگ اور تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے جس کی وجہ سے حکومت نے انٹرنیٹ کی بندش کا فیصلہ کیا۔

اسی دوران پاکستان میں سواری اور آن لائن خوراک کی ترسیل کے کاروبار سے منسلک افراد نے بتایا کہ اُن کے آپریشنز بڑی حد تک متاثر ہوئے ہیں۔ لاہور، اسلام آباد، کراچی اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ ہوئے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ ملک میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئی ہیں تاہم انہوں نے سروس کی بحالی کے لیے کوئی مقررہ وقت بتانے سے گریز کیا۔

دوسری جانب ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی بندش کا معیشت پر تباہ کن اثر پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں ٹیلی کام آپریٹرز، حکومت اور پاکستان کے عوام کو کافی نقصان ہوتا ہے۔ وہ افراد جو ڈیجیٹل ایپس جیسا کہ کریم، اِن ڈرائیو، فوڈ پانڈا اور دیگر پر انحصار کرتے ہیں ان کی آمدن میں نمایاں کمی ہو گی جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی موبائل ایپس کے ذریعے ہونے والی ڈیجیٹل ادائیگیاں بھی رُک گئیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here