خون عطیہ کرنے کی اربوں ڈالر کی مارکیٹ، امریکیوں کی آمدن کا ذریعہ

222
US multi billion dollar blood exports

دنیا میں انسانی خون کی ملٹی بلین ڈالر کی مارکیٹ کام کر رہی ہے۔ چونکہ انسانی خون اور پلازمہ کا متبادل موجود نہیں۔ اس لیے اس کی طلب ہمیشہ رسد سے زیادہ رہتی ہے جسے پورا کرنا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکا دنیا کو انسانی خون برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جو اس کی مجموعی برآمدات کا 2.69 فیصد ہے۔ 2021ء میں امریکا کی بلڈ مارکیٹ کا حجم  تین ارب تیس کروڑ ڈالر رہا۔ پہلے نمبر پر آئرلینڈ ہے۔

امریکا دنیا کو ستر فیصد بلڈ پلازما فراہم کرتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک الگ معیشت ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ بلڈ اکانومی کام کیسے کرتی ہے۔

یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ خون مائع اور ٹھوس اجزاء کا مرکب ہوتا ہے۔ مائع حصے کو پلازما کہتے ہیں جو پانی، نمکیات اور پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے اور خون کا پچپن فیصد بناتا ہے۔ اس کا کام غذائی اجزاء، ہارمونز اور پروٹین کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔

ریڈ بلڈ سیلز، وائٹ بلڈ سیلز اور پلیٹ لیٹس خون کے ٹھوس اجزاء کہلاتے ہیں۔ جب کوئی شخص خون عطیہ کرتا ہے تو عموماََ اس کا مکمل خون ہی لیا جاتا ہے جس میں تمام اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

لیکن اگر کسی کا پلازما لینا مقصود ہو تو ایک مشین خون میں سے پلازما الگ کرتی جاتی ہے اور باقی خون واپس ڈونر کے جسم میں داخل کر دیا جاتا ہے۔

کووڈ-19 کی وبا کے دوران امریکا سمیت کئی ممالک میں انسانی خون اور پلازما کی طلب کافی بڑھ گئی تھی اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کو پہلی بار خون کے بحران کا اعلان کرنا پڑا۔

چونکہ کووڈ کی وجہ سے ہسپتالوں میں عمومی علاج معالجہ اور سرجری روک دی گئی تھی، اس لیے امریکا سمیت دنیا بھر میں خون کے عطیات میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔

خون کے عطیات میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے افراد یعنی بے بی بومرز (baby boomers) اَب بوڑھے ہو چکے ہیں اور عطیہ کنندگان کی فہرست سے نکل چکے ہیں جبکہ موجودہ نوجوان نسل کو خون عطیہ کرنے میں کم ہی دلچسپی ہے۔ کچھ قصور غیرصحت مندانہ خوراک کا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

امریکا سمارٹ فون مینوفیکچرنگ میں چین سے پیچھے کیوں؟

پاکستان کو چھوڑیں، چین امریکا میں بھی اربوں ڈالر کے اثاثوں کا مالک

امریکا میں رقم کے عوض خون عطیہ کرنا قانونی ہے اور سالانہ اڑسٹھ لاکھ امریکی اپنا خون عطیہ کرتے ہیں۔ اس لیے کم آمدن والے امریکیوں اور کئی کمیونٹیز نے اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کیلئے خون اور پلازما فروخت کرنے کو آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

بلڈ پلازما بطورِ پروڈکٹ فروخت ہوتا ہے۔ اپنی بہترین غذائی خصوصیات کی وجہ سے اس کی اہمیت خون سے بھی زیادہ ہے اور یہ کئی بیماریوں کے علاج اور ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکا میں جمع ہونے والا تقریباََ سارا پلازما یورپ بھیجا جاتا ہے جہاں اس کے اجزاء الگ الگ کیے جاتے ہیں اور واپس امریکا لے جا ہسپتالوں اور فارما کمپنیوں کو بیچ دیا جاتا ہے یا پھر دیگر ممالک کو برآمد کر دیا جاتا ہے۔

دنیا کے اکثر ممالک میں پیسوں کے عوض خون عطیہ کرنا جرم ہے لیکن امریکا میں خون عطیہ کرنے والوں کو معاوضہ دینا قانوناََ ممنوع نہیں۔ خون کی بجائے پلازما زیادہ مہنگا فروخت ہوتا ہے۔ عموماََ پلازما عطیہ کرنے والوں کو چھ سو ڈالر سے نو سو ڈال ڈالر تک مل جاتے ہیں۔

امریکا میں چار بڑی کمپنیاں 80 فیصد پلازما سینٹرز چلاتی ہیں لیکن یہ چاروں کمپنیاں امریکی نہیں ہیں۔ سی ایس ایل فارما آسٹریلین، گریفلز (Grifols)  سپینش، بائیو لائف جاپان اور اوکٹا فارما سوئس کمپنی ہے۔ لیکن یہ تمام کمپنیاں امریکا سے پلازما جمع کرکے دوسرے ملکوں کو برآمد کر دیتی ہیں۔

چونکہ پلازما کافی مہنگا فروخت ہوتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے غذائی اجزاء، پروٹین اور اینٹی باڈیز کی قیمت اور بھی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اِن کمپنیوں کا پرافٹ مارجن کافی زیادہ ہوتا ہے لیکن اسے ظاہر نہیں کیا جاتا۔

بائیو لائف پلازما سروسز نے اپنی ویب سائٹ پر اشتہار دے رکھا ہے کہ آپ پلازما عطیہ کرکے 900 ڈالر کما سکتے ہیں۔

تاہم ہر بار پلازما عطیہ کرنے پر 900 ڈالر نہیں ملتے بلکہ یہ پہلی یا دوسری بار کی قیمت ہوتی ہے۔ عموماََ بعد میں 30 سے 50 ڈالر کی معمولی سی رقم ملتی ہے پھر بھی لوگ پلازما عطیہ کرتے رہتے ہیں لیکن اگر کسی ایک شخص کے توسط سے کوئی دوسرا ڈونر آ جائے تو اس کا بونس بھی دیا جاتا ہے۔ یوں لوگ اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو بھی پلازما عطیہ کرنے پر اکساتے ہیں۔

اسی طرح کمپنیاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈونر بنانے کیلئے طرح طرح کی سکیمیں متعارف کرواتی رہتی ہیں۔ خون اور پلازما جمع کرنے والے زیادہ تر کلیکشن سینٹرز کم آمدن والے علاقوں میں قائم کیے جاتے ہیں تاکہ رقم کے لالچ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پلازما عطیہ کرنے کی ترغیب ملے۔

امریکا میں سب سے زیادہ بلڈ پلازما ریاست ٹیکساس میں جمع کیا جاتا ہے۔ رقم کے عوض پلازما عطیہ کرنے کیلئے میکسیکو سے بھی لوگ بارڈر کراس کرکے امریکا آتے ہیں۔ یہ افراد میکسیکو میں روزانہ اجرت سے زیادہ رقم ایک بار پلازمہ عطیہ کرکے کما لیتے ہیں۔

اس قدر زیادہ پلازمہ نکلنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے زیادہ تحقیق نہیں کی گئی تاہم ڈونرز کے ایک چھوٹے گروپ پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ 70 فیصد پلازما ڈونرز کو صحت سے متعلق کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک صحت مند مرد 12 ہفتوں بعد جبکہ خاتون 16 ہفتوں بعد خون عطیہ کر سکتی ہے۔ لیکن پلازما چار ہفتوں بعد بھی عطیہ کیا جا سکتا ہے بلکہ امریکی محکمہ صحت دو ہفتوں بعد بھی پلازما عطیہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

لیکن امریکیوں کو ہفتے میں دو بار پلازما عطیہ کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔ یعنی ایک امریکی شہری سال میں 104 بار پلازما عطیہ کر سکتا ہے۔ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ امریکی اضافی رقم کمانے کیلئے زیادہ سے زیادہ پلازما عطیہ کیوں کرتے ہیں اور کیوں امریکا خون اور پلازما کے بڑے ایکسپورٹرز میں سے ایک ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here