متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداواری استعداد بڑھانے کے دس سالہ منصوبہ منظور

بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال 19 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد، آر ایل این جی 17 فیصد سے 11 فیصد، درآمدی کوئلہ 11 فیصد سے 8 فیصد تک استعمال کیا جائے گا، پن بجلی کی پیداوار 28 فیصد سے بڑھا کر 39 فیصد، وِنڈ پاور 4 فیصد سے 8 فیصد اور شمسی توانائی ایک فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کی جائے گی

321

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی پیداواری استعداد توسیعی منصوبے 2021-30ء کی منظوری دے دی۔

نیپرا کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپنشن پلان (آئی جی سی ای پی) کے تحت ملک کا انرجی مکس، جو اس وقت کوئلے، فرنس آئل اور آر ایل این جی سمیت درآمدی ایندھن پر مشتمل ہے، اس کی جگہ ہائیڈل، مقامی کوئلے، بائیوگیس،  ہوا اور سورج کی روشنی سے سستی بجلی پیدا کی جائے گی۔

اس پلان میں دس سال کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ہر سال اس کا جائزہ لیا جائے گا، منصوبے کے تحت فرنس آئل کا استعمال جو اس وقت 19 فیصد ہے، کو کم کر کے صرف دو فیصد جبکہ آر ایل این جی اور درآمدی کوئلے کا استعمال بالترتیب 17 فیصد اور 11 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد اور 8 فیصد تک لایا جائے گا۔

اس کے علاوہ مجموعی انرجی مکس میں پن بجلی کی پیداوار 28 فیصد سے بڑھا کر 39 فیصد، ہوا سے بجلی کی پیداوار 4 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد اور سورج کی روشنی سے بجلی کی پیداوار ایک فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here