’کراچی انڈسٹریل پارک میں 22 ملکی و غیرملکی  کمپنیوں کی سرمایہ کاری‘

188

کراچی: وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے جمعرات کو کراچی انڈسٹریل پارک، سوزوکی پلانٹ اور پاکستان سٹیل ملز کا دورہ کیا، اس موقع پر انہیں سپیشل اکنامک زونز، سوزوکی پلانٹ کی پیدواری صلاحیت اور پاکستان سٹیل مل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی انتظامیہ نے سیپشل اکنامک زونز کے حوالے سے وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ نیشنل انڈسٹریل پارک کیلئے 278.5 ایکڑ اراضی الاٹ کر دی گئی ہے، بائیس ملکی و غیرملکی  کمپنیوں نے اب تک اس صنعتی زون میں سرمایہ کاری کی ہے۔

وفاقی وزیر خسرو بختیار نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے اور یہاں انڈسٹریل اراضی کی دستیابی کا مسئلہ رہا ہے۔ وزرات صنعت و پیداوار نے 1500 ایکڑ زمین سیپشل اکنامک زون کیلئے مختص کی ہے، کراچی انڈسٹریل پارک 7 ارب روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیپشل اکنامک زون میں ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو وَن ونڈو آپریشن کے ذریعے سہولیات فراہم کی جائیں گی، یہ انڈسٹریل پارک صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار نے نے سوزوکی پلانٹ کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر نہ صرف معاشی نمو کا انجن ہے بلکہ اس میں برآمدات کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے، حکومت کا ارادہ ہے کہ آٹو پارٹس کی مقامی صنعت کو فروغ دیا جائے۔

خسرو بختیار نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کا دائرہ کار نہ صرف مقامی پیداوار بڑھانا ہے بلکہ اس میں آٹو پارٹس کی برآمدی پلان بھی شامل ہے۔ حکومت نے ”میری گاڑی سکیم” متعارف کراوئی ہے جس کے تحت چھوٹی گاڑیوں کی قیمتیں کم کی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بات خوش آئند بات ہے کہ سوزوکی اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہا ہے، آٹو پارٹس کی درآمدات کو کم کرنے کیلئے مقامی پیداوار کو بڑھانا ہو گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سوزوکی موٹرز کی انتظامیہ آٹو سیکٹر میں کئے جانے والے حکومتی اقدامات کو سراہتی ہے اور حالیہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے گاڑیوں کی سیلز میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، کمپنی انتظامیہ نے نئی آٹو پالیسی کے پیش نظر آئندہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر بھی روشنی ڈالی۔

پاکستان سٹیل مل کے دورہ کے موقع پر وفاقی وزیر خسرو بختیار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری سے سٹیل مل کی استعداد میں اضافہ ہو سکے گا، ملک میں تعمیراتی صنعت ترقی کر رہی ہے جس کی وجہ سے سٹیل کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے جسے پورا کرنے کے لئے اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سٹیل کی صنعت کے حوالے سے مربوط اور جامع پالیسی لانا چاہتی ہے جس کا مقصد سٹیل کی صنعت سے وابستہ شعبوں کو فائدہ فراہم کرنا ہے جس کے ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here