وزیر خزانہ کی سیمنٹ اور سٹیل کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت

سیمنٹ مینوفیکچررز متعلقہ فریقوں کیساتھ مشاورت کرکے پائیدار قیمتوں سے متعلق تجاویز دیں تاکہ تعمیرات سے متعلق سازوسامان مناسب قیمت پر فراہم کر کے اس شعبہ کو فروغ دیا جا سکے، شوکت ترین  

186
اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین سے سیمنٹ کمپنیوں کے نمائندے ملاقات کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے سیمنٹ کی قیمتوں میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے دوران اور بعد از کورونا معاشی بحالی کے فروغ کیلئے سیمنٹ اور سٹیل سمیت تعمیراتی و صنعتی اشیاء کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے۔

گزشتہ روز وزیر خزانہ شوکت ترین سے سیمنٹ مینوفیکچررز کے نمائندوں نے ملاقات کی، اس موقع  پر سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار نے گزشتہ تین سالوں بالخصوص کورونا وبا کے دوران سیمنٹ کی قیمت میں ردوبدل کا جائزہ پیش کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سیمنٹ تعمیراتی شعبے کا اہم ترین جز ہے، کورونا وبا کے دوران معاشی بحالی کیلئے کوششوں پر سیمنٹ انڈسٹری کے تعاون کو سراہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پیداوار بڑھنے کے باوجود سیمنٹ مہنگا، گھر بنانا مشکل، تعمیراتی سیکٹر بری طرح متاثر

انہوں نے تعمیراتی صنعت کی مدد کیلئے کئے گئے حکومتی اقدامات کو بھی اجاگر کیا جس کے باعث کورونا وبا کے دوران معاشی سرگرمیاں جاری رہیں۔

اس موقع پر سیمنٹ کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سیمنٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاہم اس وقت بھی سیمنٹ کا مجموعی منافع خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

وزیر خزانہ نے سیمنٹ مینوفیکچررز کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کریں اور سیمنٹ کی پائیدار قیمتوں کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز دیں تاکہ تعمیراتی صنعت سے متعلق سازوسامان مناسب قیمت پر فراہم کر کے اس شعبہ کو فروغ دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں سیمنٹ کی پیداوار میں 27.31 فیصد، فروخت میں 20 فیصد اور برآمدات میں 18.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے جس سے تعمیراتی شعبے کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ تعمیراتی لاگت بڑھ چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ سال سیمنٹ کی فی بوری قیمت 510 روپے تھی جو اَب بڑھ کر 650 روپے تک پہنچ چکی ہے اور ایک سال کے دوران تقریباََ 140 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here