فیٹف کی شرائط پر عملدرآمد کیلئے محکمہ ڈاک کی بچت سکیمیں قومی بچت مراکز کے سپرد

حکومت نے بہت سے کام محکمہ ڈاک کے سپرد کر رکھے ہیں، وزارت خزانہ اور بینکوں کیلئے رقوم کی وصولی اور ادائیگی بھی کی جا رہی تھی لیکن سٹیٹ بینک ریگولیٹ نہیں کر رہا، فیصلہ کیا ہے جو کام جس ادارے کا ہے اس کے سپرد کیا جائے، ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ خالد جاوید

271

لاہور: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے محکمہ ڈاک نے اپنی بچت سکیمیں قومی بچت مراکز کے سپرد کر دیں۔

اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ خالد جاوید کا کہنا ہے کہ فیٹف کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے محکمہ ڈاک نے اپنی بچت سکیمیں قومی بچت کے مراکز کے سپرد کردی ہیں تاہم اس سے ہمارے کھاتہ داروں کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اور نہ ان کے منافع کی شرح کم ہو گی۔

سوموار کو جنرل پوسٹ آفس ملتان کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خالد جاوید نے کہا کہ محکمہ ڈاک اگرچہ بینک نہیں ہے لیکن اس کے نیٹ ورک کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بہت سے کام سپرد کیے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم وزارت خزانہ اور بینکوں کےلئے رقوم وصول بھی کر رہے تھے اور ادائیگیاں بھی کی جا رہی تھیں تاہم سٹیٹ بینک محکمہ ڈاک کو ریگولیٹ نہیں کر رہا۔

ڈی جی پاکستان پوسٹ کا کہنا تھا کہ دیگر بہت سی وجوہات کے ساتھ ساتھ فیٹف کی شرائط بھی شامل ہیں، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ رقوم کی وصولی اور ترسیل کا کام حقیقی طور پر جن اداروں کا ہے، جن میں وزارت خزانہ اور محکمہ قومی بچت شامل ہیں، انہی کے سپرد کر دیا جائے تاکہ فیٹف کی شرائط پرعمل درآمد ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ کھاتے قومی بچت کے حوالے کرنے سے ایک مشکل یہ درپیش ہے کہ جتنا بڑا نیٹ ورک محکمہ ڈاک کا ہے اتنا قومی بچت کا نہیں، ہم اس کوشش میں ہے کہ محکمہ قومی بچت کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ ہو جائے کہ مستقبل میں محکمہ ڈاک کی شاخوں میں یہ تمام سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں خالد جاوید نے کہا کہ اب ہماری تمام توجہ ڈاک کی ترسیل پر ہے،اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ کسی ایک صارف کو بھی اگر محکمہ ڈاک سے شکایت ہے تو وہ دور کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لاکھوں پارسل تقسیم کرتے ہیں لیکن شکایات کی شرح ایک فیصد بھی نہیں، اس کارکردگی کا کوئی اور سرکاری محکمہ مقابلہ نہیں کر سکتا، محکمہ ڈاک کی سروس ڈلیوری کی شرح 98 فیصد ہے لیکن ہمارے نزدیک ایک یا دو فیصد کی کمی بھی بہت زیادہ ہے جسے دورکرنے کے لیے کارکردگی بہتر کر رہے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ کا کہنا تھا کہ محکمہ ڈاک کی عمارتوں کو بھی بہتر بن ارہے ہیں، خستہ حال ڈاک خانوں کی مرمت پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ہدایت کی ہے کہ جہاں بزنس زیادہ ہے وہاں سے زیادہ منافع جمع کر لیا جائے جسے کم بزنس والے ڈاک خانوں پر خرچ کیا جا سکے گا۔ ہم درست سمت کی جانب جا رہے ہیں اور جلد مزید بہتری سامنے آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here