سپریم کورٹ کی شوگز ملز کو ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کرنے کی مشروط اجازت

قیمتوں کا تعین عدالت کا اختیار نہیں، غیرمتعلقہ حدود میں عدلیہ کی مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے، عدالت عظمیٰ نے معاملہ لاہور ہائی کورٹ کو ریمانڈ کر کے 15 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی

216

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے شوگز ملز کو ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کرنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے چینی کی قیمتوں کے تعین کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا۔

سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں کے تعین سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا عبوری حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومتی اپیل نمٹا دی۔

عدالت عظمیٰ نے معاملہ لاہور ہائی کورٹ کو ریمانڈ کر کے عدالت عالیہ کو 15 دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قیمت کا تعین عدالت کا اختیار نہیں، غیر متعلقہ حدود میں عدلیہ کی مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی پر سیلز ٹیکس واپس ’ایکس مل ریٹ‘ پر لے جانے کا فیصلہ

کنٹرولر جنرل آف پرائسز نے آئندہ چھ ماہ کیلئے چینی کی ریٹیل قیمت مقرر کر دی

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چینی کی قیمت مقرر کرنے سے متعلق حکومتی اپیل پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ حکومت نے چینی کی ایکس مل قیمت مقرر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کی ایکس مل قیمت پر حکم امتناع جاری کر دیا، عبوری حکم ختم نہ ہوا تو مل مالکان مہنگی چینی فروخت کریں گے، قیمت مقرر کرنے کا اختیار حکومت کا ہے اور حکومت عوام کے حقوق کی محافظ ہے۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نفع نقصان اور قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتی،عدالت کے پاس قیمتوں میں تعین جیسے معاملے میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں، چینی کی قیمت کا تعین ایک فارمولہ کے تحت ہوتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ شوگر ملز کا موقف ہے کہ حکومت نے 104 روپے پر چینی امپورٹ کی اورامپورٹ کی گئی چینی حکومت سبسڈی دے کر 89 روپے میں فروخت کرے گی، یہ بات درست ہے یا غلط، لیکن عدالت نے اپنے اختیارات کو دیکھنا ہے، عدالت نفع نقصان اور قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتی۔

معزز جج نے مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا عبوری حکم ختم کرکے کیس ریمانڈ کریں گے، ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کرنے کی مشروط اجازت ہو گی لیکن مناسب ہوگا کہ قیمتوں میں فرق کی رقم کیس کا فیصلہ ہونے تک کسی ٹرسٹی کے پاس رہے۔

سماعت کے دوران شوگر ملز مالکان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ عبوری حکم ختم کیا تو اس کا نقصان ہو گا، سارا سٹاک اٹھا لیا جائے گا، ہماری تجویز ہے کہ قیمتوں میں فرق پر مبنی رقم ڈپٹی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے پاس جمع کرائی جائے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے حکومتی اپیل نمٹاتے ہوئے شوگر ملز مالکان کو ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کرنے کی مشروط اجازت دیدی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں چینی کی قیمت کا کیس زیرالتواء ہے اور ہائی کورٹ نے حکومت کی مقررہ قیمت کیخلاف یکطرفہ حکم امتناعی جاری کیا،عدالت کی ذمہ داری ہے کہ قانونی نقطے پر فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ قانونی نکتے پر فیصلہ کرے، قیمتوں اور نفع نقصان کا تعین کرنا عدلیہ کی ذمہ داری نہیں ہے، ہائیکورٹس کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت غیر متعلقہ حدود میں داخلے کے مترادف ہے جو عدلیہ کیلئے شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شوگر ملز کی طرف سے صرف مچلکے جمع کرانا کافی نہیں، شوگر ملز ایکس مل ریٹ میں فرق پر مبنی رقم رضاکارانہ طور پر جمع کرائیں گی، متعلقہ کین کمشنر چینی کے سٹاک اور فروخت کا ریکارڈ مرتب کریں، حکومت اور شوگر ملز مالکان کی مقرر کردہ ریٹ میں فرق پر مبنی رقم ہائی کورٹ میں جمع ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here