کووڈ۔19 کے اثرات کم کرنے کیلئے عالمی سطح پر 16 کھرب ڈالر کی مالی معاونت کی فراہمی

وبا کے دوران عالمی معیشت کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا خسارہ، مرکزی بینکوں کی بیلنس شیٹس میں 7.5 کھرب ڈالر کا اضافہ،  عالمی جی ڈی پی کو 22 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا  

331

اسلام آباد: کووڈ۔19 کی وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مارچ 2020ء کے بعد سے دنیا بھر کی حکومتوں نے متاثرہ طبقات کو مجموعی طور پر 16 کھرب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔

وبا کے آغاز سے لے کر سال 2021ء کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے اختتام تک دنیا بھر کے ممالک کے مرکزی بینکوں کی بیلنس شیٹس میں مجموعی طور پر 7.5 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے دوران دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی معیشت کو سب سے زیادہ خسارہ ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ معاشی بحالی کےلئے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے ایک سال کے دوران اس قدر مالی معاونت فراہم کی گئی ہے جو ماضی کے 10 سالوں کی کل مالی معاونت سے زیادہ ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے بحران کی وجہ سے مجموعی عالمی پیداوار (جی ڈی پی) میں 22 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جو تاریخ کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

عالمی ادارہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ معاشی بحالی کی شرح میں اضافہ کے لئے ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قرضوں کی ادائیگی میں سہولتیں دینے سے متاثرہ صنعتوں کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

اس حوالہ سے نئے آئیڈیاز اور نئی صنعتوں پر سرمایہ کاری، مستحکم لیبر مارکیٹ، روزگار کی تلاش کے نظام کی بہتری اور کارکنوں کی تربیت سے عالمی معیشت کی بحالی میں مدد کی جا سکتی ہے جبکہ بہتر مسابقتی پالیسیوں سے معاشی شرح کے عالمی اہداف کا حصول بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ صرف کارپوریٹ مارکیٹ پاور پر قابو پا کر معاشی بحالی کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے، التبہ سرمایہ کاری کے فروغ، نئی ایجادات کی حوصلہ افزائی اور کارکنوں کے معاوضہ میں تسلسل کے ساتھ اضافہ اور زیادہ موثر زرعی پالیسی کی تشکیل سے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن ہے۔

آئی ایم ایف نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ کووڈ۔19 کی وبا کے بعد معاشی بحالی کے لئے تمام تر دستیاب وسائل سے استفادہ کے حوالہ سے پالیسی مرتب کریں تاکہ پائیدار اور موثر اقتصادی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

معاشی شرح نمو میں استحکام کے حوالہ سے زرعی پالیسی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس لئے زرعی پالیسی تشکیل دیتے وقت سرمایہ کاری میں اضافہ، ایجادات کی حوصلہ افزائی اور کارکن طبقہ کے معاوضوں میں اضافہ کی حکمت عملی بھی مطلوبہ اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here