وزیر خزانہ کی ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے نظام الاوقات کی پابندی کی ہدایت

الیکٹرانک کیش رجسٹر کا مقصد ریٹیلرز کو پی او ایس سسٹم سے مربوط کرنا، ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانا اور ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے، شوکت ترین کا پوائنٹ آف سیل سسٹم کے حوالہ سے سٹئیرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

251

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ٹیکس کی محدود بنیاد ایک اہم اور کلیدی چیلنج ہے اور حکومت محصولات میں نمایاں اضافہ کیلئے ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانے کیلئے پُرعزم ہے۔

وزیر خزانہ کی زیر صدارت ریٹیلیرز کو ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل سسٹم سے مربوط کرنے کے حوالہ سے سٹئیرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کے آغاز میں ایف بی آر کے ممبر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ریٹیلیرز کو ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل نظام سے مربوط کرنے کے ضمن میں ٹرمز آف ریفرنس سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) نجی شعبہ سمیت کلیدی شراکت داروں سے مشاورت کے بعد مرتب کئے گئے ہیں تاکہ چیک اینڈ بیلنس کا باقاعدہ نظام موجود ہو۔

وزیرخزانہ نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکس کی محدود بنیاد ایک اہم اور کلیدی چیلنج ہے اور حکومت محصولات میں نمایاں اضافہ کیلئے ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانے میں پُرعزم ہے۔

انہوں نے سٹیئرنگ کمیٹی کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں الیکٹرانک کیش رجسٹر رکھنے پر ریٹیلرز کیلئے کئی ترغیبات دی ہیں، اس کا مقصد ٹیکس گزاروں کو ترغیب دے کر ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانا اور ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے ایف بی آر پر پی او ایس سسٹم اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانے کیلئے اقدامات کے حوالہ سے نظام الاوقات کی سختی سے پاسداری کرنے اور ساری مشق کی باقاعدہ فالو اَپ کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانے اور تمام کلائنٹس اور آوٹ لیٹس کو ایف بی آر کے ایم آئی ایس نظام سے مربوط کرنے میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال، تجزیاتی طریقہ ہائے کار اور آٹومیشن ضروری عناصر ہیں۔

وزیرخزانہ نے مسٹری شاپنگ جیسے عبوری اقدامات کے ذریعہ نظام میں پائے جانے والے نقائص سے آگاہی کی بھی ہدایت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here