ایشیائی ترقیاتی بینک احساس پروگرام کا معترف، ’وسیلہ تعلیم پروگرام‘ کو وسعت دینے پر زور

سٹریٹجک پالیسی سازی کے ساتھ مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام سے پاکستان میں لاکھوں طلباء بالخصوص لڑکیوں کیلئے تعلیمی مواقع میں بے انتہا اضافہ کیا جا سکتا ہے، بلاگ

549

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے غربت کے خاتمہ اور سماجی تحفظ کے علم بردار ’احساس پروگرام‘ کی تعریف کرتے ہوئے اس کے تحت جاری وسیلہ تعلیم پروگرام کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایک حالیہ بلاگ میں کہی گئی ہے۔ بینک نے کہا کہ سٹریٹجک پالیسی سازی کے ساتھ مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام سے پاکستان میں لاکھوں طلباء بالخصوص لڑکیوں کیلئے تعلیمی مواقع میں بے انتہا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اے ڈی بی نے کہا ہے کہ پاکستان میں یونیورسل پرائمری تعلیم کی راہ میں غربت ایک بڑی رکاوٹ ہے، معاشی طور پر آسودہ حال خاندانوں میں سکولوں میں داخلہ کی شرح معاشی مسائل کے شکار خاندانوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ معاشی طور پر کمزور خاندانوں میں بچوں کے تعلیمی اخراجات ایک بڑا مسئلہ ہیں، اس طرح کے خاندانوں میں بچوں کو سکولوں میں بھیجنے کی بجائے انہیں کم عمری میں آمدنی میں اضافہ یا روزمرہ کے گھریلوں کاموں پر لگا دیا جاتا ہے۔

بینک کے مطابق پاکستان میں غربت طالبات کے سکولوں سے ڈراپ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے، بچیوں کے تعلیمی اشاریے لڑکوں کی نسبت کمزور ہیں، ملک کے دیہی علاقوں میں طالبات کی خواندگی کی شرح بہت کم ہے۔

اے ڈی بی نے بلاگ میں مزید لکھا ہے کہ مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام اِس ضمن میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، حکومت پاکستان احساس پروگرام کے تحت ’وسیلہ تعلیم پروگرام‘ پرعمل پیرا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پروگرام کو پرائمری سے آگے کی سطح تک وسعت دی جائے اور اس کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جائے۔

بینک نے کہا ہے کہ طالبات کے لئے سیکنڈری سطح پر اِس پروگرام کو وست دینے سے ان کے تعلیمی اداروں سے ڈراپ آئوٹ ہونے کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here