وبا اور معاشی سست روی کے باوجود ایف بی آر کو ریکارڈ 4.7 کھرب روپے ٹیکس آمدن 

جولائی 2020ء سے جون 2021ء کے دوران مقررہ ہدف 4.69 کھرب روپے سے 18 فیصد زائد ٹیکس جمع، انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 12.5 فیصد اضافے سے 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی

581

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2020-21ء کے نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف 4691 ارب روپے کے مقابلے میں 4732 ارب روپے ٹیکس جمع کر لیا۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جولائی 2020ء سے لے کر جون 2021ء تک کی مدت میں 4732 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس جمع کیا گیا جو اس عرصہ کے مقرر کردہ ہدف 4691 ارب روپے سے 41  ارب روپے زائد ہے۔

اس طرح ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال 2019-20ء کے جمع کردہ مجموعی ٹیکس 3997 ارب روپے کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ٹیکس جمع کیا۔

جون 2021ء میں ایف بی آر نے مجموعی طور پر 568 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو جون 2020ء کے 451 ارب روپے کے مقابلے میں 26 فیصد زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر کی ٹیکس چوری میں ملوث لاہور میں دو صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی

سیلز ٹیکس کی عدم ادائیگی پر جوتے بنانے والے تین یونٹس کے خلاف ایف بی آر کی کارروائی

اسی طرح ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس آمدن مالی سال 2019-20ء کی 4132 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2020-21ء میں 4983 ارب روپے رہی اور اس میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مالی سال 2020-21ء میں 251 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جو پچھلے سال اس عرصہ میں 135 ارب روپے تھے۔

یوں ریفنڈز کے اجراء میں 86 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایف بی آر مختلف صنعتوں کو درپیش لیکویڈیٹی مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

31 جون 2021ء تک ٹیکس سال 2020ء کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 30 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اختتام تک 26 لاکھ 70 ہزار تھی، اس طرح ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا۔

ٹیکس گوشوارں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 52 ارب روپے رہا جو پچھلے سال اس عرصہ میں 34 ارب روپے تھا۔ اس طرح ٹیکس ادائیگی میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایف بی آر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سیلز ٹیکس میں اضافے کیلئے ملک بھر میں 11 ہزار ایک سو پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز ایف بی آر کے رپورٹنگ سسٹم کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سندھ ریونیو بورڈ کو مالی سال 2020-21ء میں 128 ارب روپے ٹیکس آمدن

کے پی ریونیو اتھارٹی نے مالی سال 2020-21ء کا ٹیکس ہدف کامیابی سے مکمل کر لیا

مالی سال 21۔2020ء: پنجاب ریونیو اتھارٹی کی ٹیکس آمدن میں 327 فیصد اضافہ ریکارڈ

پاکستان کسٹمز نے مالی سال 2020-21ء میں 742 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل کی جبکہ مقررہ ہدف 640 ارب روپے تھا۔ اس طرح ہدف سے 102 ارب روپے اور 16 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی۔

جون 2021ء میں 83 ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی جبکہ مقررہ ہدف 75 ارب روپے تھا۔ اس طرح ماہانہ لحاظ سے 12 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2019-20ء کے مقابلے میں مالی سال 2020-21ء میں 117 ارب روپے یعنی 18 فیصد زائد کسٹمز ڈیوٹی حاصل ہوئی، حالانکہ کورونا کے باعث معاشی سست روی بھی جاری ہے۔

جون 2021ء میں 3.7 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں۔ مالی سال 2020-21ء میں 57.7 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں جو پچھلے سال 36 ارب روپے کی تھی، اس طرح ضبطگی میں 58 فیصد اضافہ حاصل ہوا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جینس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے مالی سال 2020-21ء میں 1608 تفتیشی رپورٹس اور ریڈ الرٹس ایف بی آر کے ذیلی دفاتر کو بھیجیں جو 244ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہیں۔

ڈایریکٹوریٹ جنرل نے انٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کے تحت 71 شکایات درج کیں جو 62 ارب روپے کے ریونیو سے متعلق ہیں، سگریٹ کے 8 ہزار 754 کارٹنز ضبط کئے گئے جن میں 8 کروڑ 75 لاکھ سے زائد سگریٹ تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here