رواں سال جنوبی ایشیا کو ترسیلات زر کی شرح میں 3.5 فیصد کمی کا امکان

228

اسلام آباد: ترقی یافتہ ممالک کی سست شرح نمو کے باعث رواں سال 2021ء کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک کو ترسیلات زر کی شرح 3.5 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2020ء کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک میں ترسیلات زر کی وصولی میں 5.2 فیصد اضافہ ہوا تھا اور دوران سال ان ممالک کو 147 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں تھیں۔

گزشتہ سال جنوبی ایشیا کو وصول ہونے والی ترسیلات زر میں اضافہ کا بنیادی سبب پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھیجی گئی رقوم میں ہونے والا نمایاں اضافہ رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے دوران پاکستان کی ترسیلات زر کی وصولیوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا اور ترسیلات کا مجموعی حجم 26.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: دس ماہ میں 24.2 ارب ڈالر کی ترسیلات، اوورسیز پاکستانیوں نے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے

اس دوران سعودی عرب سے کی جانے والی ترسیلات میں 46 فیصد سے زیادہ جبکہ یورپی یونین کے ممالک سے رقوم کی وصولی میں 25 فیصد اور متحدہ عرب امارات سے بھیجی جانے والی رقوم میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران بھی ترسیلات زر کی وصولیاں مستحکم رہی ہیں تاہم ترقی یافتہ ممالک اور بڑ ی معیشتوں کی اقتصادی شرح نمو میں سست رفتار بڑھوتری کے باعث خدشہ ہے کہ رواں سال کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک کو بھیجی جانے والی رقوم میں اضافہ کی شرح 3.5 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 کے باعث عالمی اقتصادی صورت حال کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے وسائلِ آمدنی بھی متاثر ہوئے ہیں تاہم ترسیلات زر کی وصولیوں کی شرح سال 2020ء کے مقابلہ میں مستحکم رہے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here