جاپان نے پاکستان کا 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالر قرض معطل کر دیا

کوویڈ-19 وبا کے تناظر میں گروپ 20 اور پیرس کلب کے ممالک نے قرض معطلی پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک کو طبی اور اقتصادی ضروریات کیلئے مالی گنجائش مہیا کرنا تھا

342

اسلام آباد: پاکستان اور جاپان نے گروپ 20 کے قرضہ معطلی کے پروگرام (ڈی ایس ایس آئی) کے تحت 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا قرض معطل کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دئیے۔

معاہدے پر پاکستان کی طرف سے سیکرٹری وزارت اقتصادی امور نور احمد اور پاکستان میں جاپان کے سفیر کونی نوری مستودا نے دستخط کئے۔ جاپانی سفارت خانہ کے سینئیر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

کوویڈ-19 کی عالمگیر وبا کے تناظر میں گروپ 20 اور پیرس کلب کے ممالک نے ڈی ایس ایس آئی کا آغاز کیا تھا جس کا بنیادی مقصد قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کو طبی اور اقتصادی ضروریات کیلئے مالی گنجائش مہیا کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب حکومت کا ورلڈ بینک سے 50 کروڑ ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

ایم ایل ون پروجیکٹ، چینی بینک 6 ارب ڈالر قرض کی درخواست کا جائزہ لے گا

متحدہ عرب امارات نے پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر قرض واپسی کی مدت میں توسیع کر دی

پاکستان کی حکومت نے اس اقدام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پروگرام کے پہلے مرحلہ (اپریل تا دسمبر) میں قرض دینے والے 21 ممالک کے ساتھ مذاکرات کئے اور ایک ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کے قرضوں کو معطل کرانے میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان جنوری 2022ء سے چار سال کی مدت میں یہ قرضہ واپس کرے گا۔

سیکرٹری وزارت اقتصادی امور نور احمد نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جاپان کی حکومت کی جانب سے قرض معطل کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ جاپان پاکستان کو قرض دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے نمٹنے کیلئے امداد اور تعاون پر جاپان کی حکومت کا شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے حکومت کو انسانی زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کیلئے اقدامات میں مدد ملی۔

سیکرٹری وزارت اقتصادی امور کا کہنا تھا کہ جاپان نے صحت، تعلیم، زراعت، بنیادی ڈھانچہ، قدرتی آفات سے نمٹنے، شہری خدمات بشمول فراہمی آب، سینی ٹیشن اور ویسٹ منیجمنٹ کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مسلسل تعاون کیا ہے۔

پاکستان میں جاپان کے سفیر نے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستان کو کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے مزید تعاون کا یقین دلایا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here