آڈیٹر جنرل نے ریفنڈز ادائیگی طریقہ کار پر سخت اعترات اٹھا دیے

228

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (آے جی پی) نے 2020ء کے دوران فیڈرل بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کے الیکٹرانک ریفنڈ پیمنٹ سسٹم کے ذریعے دوہری/ زائد ادائیگیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے سست مانیٹرنگ، پوسٹ- ریفنڈ آڈٹ کی غیرموجودگی، قانون سے انحراف اور کمزور اندرونی کنٹرول کو ریفنڈز ادائیگی میں سنگین مسائل قرار دیا ہے۔ 

اے جی پی نے 2020 کے لیے ایف بی آر اور اسکی فیلڈ فارمیشنز کی طرف سے ریفنڈز اور ڈیوٹی ڈراء بیک کی اجازت کا خصوصی آڈٹ کنڈکٹ کیا ہے۔

اے جے پی کی یہ تازہ ترین رپورٹ اپریل 2021 میں تیار کی گئی۔ ایف بی آر نے جنوری سے دسمبر 2020 کے دوران 65 ارب روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈ، 234 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈ اور 22.94 ارب روپے کے بطور ڈیوٹی ڈراء بیک کی اجازت دی۔

اِن لینڈ ریونیو کے لیے 97222 کیسز میں سے 8819 کیسز کو جانچ پڑتال کے لیے متخب کیا گیا جو مجموعی آبادی کے 9.07 فیصد پر مشتمل ہے اور کسٹمز کے ڈیوٹی ڈراء بیک کے لیے 339549 کیسز میں سے 28550 کیسز کا انتخاب کیا گیا جو مجموعی آبادی کے 8.41 فیصد پر مشتمل ہے۔

منتخب کردہ کیسز کے ان نمونوں کا تعلق چار لارج ٹیکس پئیرز آفسز (ایل ٹی او)، ایک میڈیم ٹیکس پئیرز آفس(ایم ٹی او)، دو کارپوریٹ ٹیکس آفسز (سی ٹی اوز)، چھ ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز)، چھ ماڈل کسٹمز کلیکٹرز (ایم سی سیز) سے ہے جو لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، اسلام آباد، پشاور اور کراچی میں واقع ہیں۔

ایف بی آر کے ہیڈکواٹراور اس کے فیلڈ فارمیشنز میں آڈٹ کے دوران ریکارڈ فراہم کرنے کا مسئلہ برقرار رہا۔ ریفنڈ ادائیگیوں کے دعوے کے انتخاب کی شرائط سے متعلق ایف بی آر کے ہیڈ کواٹر کے اعدادوشمار کو پیش نہ کیا جا سکا۔

بقیہ کے اعدادوشمار کا فارمیٹ تجزیہ کرنے کی حالت میں ہی نہ تھا۔  فیلڈ فارمیشن کی سطح پر ایف بی آر کے پیش کیے گئے ریکارڈ تسلی بخش نہ تھے۔ مزید برآں زیادہ تر ریکارڈ کو فیلڈ آڈٹ کے اختتام پر پیش کیا گیا۔ ان محدود وجوہات کی بنا پر ریفنڈ اور چھوٹ کے دعوؤں کے پراسیس پر رائے دینا آڈٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف بی آر کے فیلڈ فارمیشنز نے اِن لینڈ ریونیو کے 8819 کیسز کے نمونوں میں سے صرف 1768 کیسز کا ہی ریکارڈ فراہم کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آڈٹ کو 7051 کیسز کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

ایسے اعدادوشمار کی عدم موجودگی میں آڈٹ اس بات کا تعین کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ آیا کہ قانون کے تحت تجویز کردہ قوانین پر ادائیگیاں کی گئیں یا نہیں۔

آڈٹ میں معلوم ہوا کہ کئی کیسز میں ریفنڈز اور چھوٹ کو بروقت انداز میں پراسیس نہیں کیا گیا اور اس طرح کی صورتحال کی نشاندہی کے لیے مانیٹرنگ کا کوئی طریقہ کار نہیں تھا۔ الیکٹرانک ریفنڈ پیمنٹ سسٹم کے ذریعے زائد اور دہری ادائیگیوں جیسے مسائل بھی ریکارڈ کیے گئے۔

خصوصی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ “مجموعی طور پر آڈٹ میں رائے دی گئی کہ ایف بی آر کی طرف سے سست مانیٹرنگ اور محکمے کے اندرونی ماحول پر قابو پانے میں کمزوری سے پراسیس سنگین مسائل کا باعث بنے”۔

آڈٹ میں الیکٹرانک ریفنڈ پراسیسنگ سسٹم کے ذریعے ریفنڈ کی ادائیگی میں قابو پانے میں ناکامی کا مشاہدہ کیا گیا۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ایف بی آر کے 7 فیلڈ آفسز میں 827 کیسز ایسے سامنے آئے جہاں دعویٰ کیے گئے سیلز ٹیکس ریفنڈ کو سسٹم کی طرف سے زائد رقم جاری کرنے کی اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں 566.47 ملین روپے کے اضافی ریفنڈ کی ادائیگی سامنے آئی۔

مزید برآں آر ٹی او سیالکوٹ کے دو کیسز میں اس حقیقت کے باوجود کہ برآمدات کے خلاف سسٹم کی طرف سے ریفنڈ کا دعویٰ غیرتصدیق شدہ یا ملتوی کیا گیا کو ریفنڈ پراسیس کیا گیا۔

پوسٹ ریفنڈ آڈٹ ریفنڈ دعوے کے مجاز ہونے کو چیک کرنے کے لیے ایک اہم کلیہ ہے جسے اتھارٹی کی طرف سے اجازت کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔

ایف بی آر کے 10 فیلڈ آفسز نے جنوری 2020 سے دسمبر 2020 کے دوران 4998 کیسز میں 54044.5 ملین روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈ پر پابندی لگائی لیکن پوسٹ ریفنڈ آڈٹ کو کنڈکٹ نہیں کیا گیا۔

آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فیلڈ آفسز میں پوسٹ ریفنڈ آڈٹ سیل فعال نہیں تھا اور ریفنڈ فائلز کسی بھی افسر کی نظروں سے نہیں گزریں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس آڈٹ کی غیرموجودگی میں ریفنڈ ادائیگی کی مجاز ہونے کی یقین دہانی سے متعلق دریافت نہیں کیا جاسکا۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 170(4) کے تحت ایف بی آر حکام کو اسکی اجازت سے پہلے ریفنڈ کے مستند ہونے کو دیکھنے کی ضرورت تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here