سال 2020ء: عالمی سطح پر موت کی سزا دینے میں قابل ذکر حد تک کمی

چین میں سالانہ ہزاروں افراد کو موت کی سزا دی جاتی ہے تاہم اعدادوشمار خفیہ ہونے کی وجہ سے درست تعداد سامنے نہیں آتی، موت کی سزا پر عملدرآمد میں ایران دوسرے نمبر پر ہے: ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

143

لندن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 2020ء کے دوران عالمی سطح پر موت کی سزا دینے میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے گو کہ عالمی سطح پر موت کی سزا دینے میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم بعض ممالک میں موت کی سزا دینے کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

تنظیم کی سیکرٹری جنرل اگنیس کالا مارڈ نے کہا ہے کہ بعض حکومتوں کے تحت سزائے موت پر مسلسل عملدرآمد کے باوجود مجموعی طور پر سال 2020ء کا مجموعی منظرنامہ مثبت رہا اور سزائے موت کی معلوم شدہ تعداد میں کمی آئی، یوں اس سزا کو دنیا سے مکمل ختم کرنے کے خواب کی تعبیر قریب تر آ رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریباََ 483 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی جو گزشتہ 10 برسوں کے دوران ایک برس میں یہ سب سے کم تعداد ہے۔

لیکن، رپورٹ کے مطابق، اسی دوران مصر میں موت کی سزا دینے کی تعداد میں تین  گنا اضافہ دیکھا گیا جبکہ بھارت، عمان، قطر اور تائیوان نے بھی موت کی سزاں پر دوبارہ عمل شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال ہی امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تقریباََ 17 برس کے وقفے کے بعد پھر سے وفاقی سطح پر موت کی سزا پر عمل شرو ع کر دیا اور 6 ماہ کے دوران 10 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔

اس کے بر عکس سعودی عرب میں موت کی سزا دینے میں 85 فیصد کمی آئی، سعودی عرب میں 2019ء میں 184 افراد جبکہ 2020ء میں صرف 27 افراد کو موت کی سزا دیتے ہوئے سر قلم کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق عراق میں بھی 2019ء میں 100 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی جبکہ سال 2020ء کے دوران صرف 45 افراد کو پھانسی دی گئی۔ بحرین، بیلا روس، جاپان، سنگا پور اور سوڈان جیسے ممالک میں سال 2020ء میں ایک بھی شخص کو موت کی سزا نہیں دی گئی جبکہ ان تمام ممالک نے 2019ء میں موت کی سزائیں دی تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ چین، شمالی کوریا، شام اور ویتنام جیسے ممالک میں موت کی سزا کو خفیہ سرکاری معلومات کے درجے میں رکھا جاتا ہے، اسی لیے ان ممالک میں ہونے والی موت کی سزائوں کے اعدادوشمار بارے کچھ علم نہیں ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین ہر سال ہزاروں افراد کو موت کی سزا دیتا ہے اور اس طرح سب سے زیادہ موت کی سزائوں پر عمل چین میں ہوتا ہے۔ اس فہرست میں ایران دوسرے نمبر پر ہے جس نے گزشتہ سال 246 سے بھی زیادہ افراد کو موت کی سزائیں دیں۔ مصر تیسرے نمبر پر ہے جس نے 107 افراد کو پھانسی دی۔

دنیا کے تقریباََ 108 ممالک نے موت کی سزا ختم کر دی ہے جبکہ دیگر 144 ممالک نے اس پر تقریباََ عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ برس چاڈ نے بھی موت کی سزا ترک کر دی تھی جبکہ قزاخستان اور بارباڈوس نے اس کے خاتمے کے لیے اصلاحات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here