فیس بک کا اپنے ڈیٹا سینٹرز کیلئے بھارتی کمپنی سے قابل تجدید توانائی خریدنے کا معاہدہ

188

کرناٹک: فیس بک نے بھارت کی ایک مقامی کمپنی کے وِنڈ پاور پروجیکٹ سے قابلِ تجدید توانائی خریدنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹکا میں واقع 32 میگاواٹ وِنڈ پاور پروجیکٹ ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے اُس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے ذریعے بھارتی کمپنی کلین میکس اور فیس بک قومی گرڈ کو قابلِ تجدید توانائی سپلائی کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔

فیس بک کے ری نیو ایبل انرجی کے سربراہ اروی پاریکھ نے رائٹرز کو بتایا کہ سوشل میڈیا کمپنی یوں تو پاور پلانٹس میں سرمایہ کاری نہیں کرتی البتہ  ماحولیات کے تحفظ کیلئے قابل تجدید توانائی بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی پاور پرچیزنگ معاہدے ضرور کرتی ہے۔

حالیہ معاہدے کے تحت کلین میکس مذکورہ پراجیکٹ کو چلانے کی ذمہ دار ہو گی جبکہ فیس بک گرڈ سے بجلی خریدے گی۔

صارفین کی تعداد کے حوالے سے بھارت فیس بک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، ایک اندازے کے مطابق 290 ملین بھارتی شہری فیس بک استعمال کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں بھی فیس بک نے توانائی کی فراہم کنندہ سن سِیپ گروپ، ٹیرینس انرجی اور سیمب کارپوریشن انڈسٹریز کے ساتھ ایسے ہی منصوبوں پر شراکت داری کا اعلان کیا ہے جو شمسی توانائی سے 160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان پاور پلانٹس سے پیدا کی گئی بجلی کو فیس بک ایشیا میں اپنے ڈیٹا سینٹرز کیلئے استعمال کرے گی جو آئندہ سال سے کام شروع کر دیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here