مہنگائی نے ریکارڈ توڑ دیے، ایک ہفتے میں 18 اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں

93

اسلام آباد: ہفتہ وار بنیادوں پر مشترکہ آمدنی والے گروپ کے لیے قیمتوں کے حساس اعشایے (SPI) میں میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 8 اپریل کو ہفتے کے اختتام پر گزشتہ برس کے مقابلے میں قیمتوں کے حساس اعشاریے میں 18.43 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مشترکہ انڈیکس یکم اپریل 2021ء کے 147.12 پوائنٹس کے مقابلے 8 اپریل کو 148 پوائنٹس پر ریکارڈ کیا گیا جبکہ 9 اپریل 2020ء کو انڈیکس 124.97 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 8 اپریل 2021ء تک ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 51 اشیائے خورونوش میں سے 18 کی قیمتوں میں اضافہ، 13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 20 اجناس کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں دیکھا گیا۔

ہفتہ وار ایس پی آئی کی شرح مختلف آمدنی رکھنے والے گروہوں کے مطابق 0.51 فیصد اور 0.69 فیصد کے درمیان رہی۔ سب سے کم آمدنی والے گروپ کیلئے مہنگائی میں ہفتہ وار 0.51 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سب سے زیادہ آمدن والے گروپ کے لیے مہگائی 0.62 فیصد بڑھی۔

کم آمدن والے گروپ کے لیے سالانہ ایس پی آئی میں 21.97 فیصد اضافہ جبکہ زائد آمدن والے گروپ کے لیے ایس پی آئی میں 17.15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سونا یوریا کھاد کی اوسط قیمت 1748 روپے فی 50 کلوگرام بیگ رہی جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.17 فیصد کم اور سالانہ لحاظ سے 3.99 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران 50 کلوگرام سیمنٹ کی بوری کی اوسط قیمت 614 روپے رہی جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.33 فیصد اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.45 فیصد زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مرغی 26 روپے 68 پیسے فی کلو، آلو 3 روپے 88 پیسے، ٹماٹر 3 روپے 33 پیسے، بڑا گوشت 2 روپے 51 پیسے اور چھوٹا گوشت 5 روپے 16 پیسے فی کلو مہنگا ہوا، کیلا فی درجن 4 روپے 98 پیسے، دال مونگ، گھی، تازہ دودھ اور دہی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا، ایک ہفتے میں 13 اشیا سستی جبکہ 20 کی قیمت میں استحکام رہا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here