مارچ کے دوران ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت 44 فیصد بڑھ گئی

107

کراچی: مارچ 2021ء میں پیٹرولیم اور لبریکینٹ کی فروخت 1.49 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی سالانہ اعتبار سے ان مصنوعات کی فروخت میں 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عارف حبیب لمیٹد میں ارسلان حنیف کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم اور لبریکینٹ کی فروخت کے حجم میں اضافے کی وجہ ریٹیل فیول کی فروخت، تجارتی سرگرمیوں (درآمدات اور برآمدات) میں اضافہ اور بہتر زرعی پیداوار ہے جس کے نتیجے میں ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت زیادہ ہوئی۔

ایران سے غیرقانونی یا تلف کیے گئے فیول کی سپلائی پر قابو پانے کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں اور سرحد پر کڑی نگرانی سے آٹوموبائل کی فروخت میں اضافہ ہوا اس کے علاوہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی بجائے نجی ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینے سے بھی اس کی فروخت میں اضافہ ہوا۔

مالی سال 2021 کے پہلے 9 ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت میں سالانہ اعتبار سے 15 فیصد سے 14.15 ملین ٹن اضافہ ہوا جبکہ مالی سال 2020 کے پہلے 9 ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت 12.27 ملین ٹن دیکھی گئی تھی۔

اعدادوشمار کی تحلیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم اور لبریکینٹ کی فروخت میں سب سے زیادہ حصہ ایچ ایس ڈی اور ایف او کی فروخت نے ڈالا جو 5.38 ملین ٹن اور 2.30 ملین ٹن فروخت ہوا گزشتہ برس کی 4.60 ملین ٹن اور 1.61 ملین ٹن فروخت سے بالترتیب 17 فیصد اور 43 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

کمپنیوں میں جس کمپنی کی فروخت بہتر رہی ان میں پاکستان سٹیٹ آئل کی مارچ 2021 میں سالانہ اعتبار سے 79 فیصد اضافہ ہوا جس میں بنیادی طور پر سالانہ لحاظ سے ایف او کی سیلز نے 967 فیصد اضافے سے حصہ ڈالا۔

ارسلان نے کہا کہ “اگر ہم پی ایس او کی سیلز کی شرح نمو نکال لیں تو پھر مارچ 2021 کی فروخت سالانہ لحاظ سے 44 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد پر آ جائے گی”۔

اسی طرح شیل اور اے پی ایل کی فروخت بھی نمایاں رہیں اور مارچ 2021 میں بالترتیب سالانہ 36 فیصد اور 12 فیصد سیلز ریکارڈ کی گئیں۔

تاہم، ہیسکول کی فروخت میں سالانہ 53 فیصد کمی آئی ایم ایس اور ایچ ایس ڈی میں کمی کی وجہ سے سالانہ بالترتیب 54 فیصد اور 49 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

مالی سال 2021ء کے پہلے 9 ماہ کے دوران پی ایس ای نے سالانہ اپنے مارکیٹ شئیر کو 2.3 فیصد اضافے سے 46.2 فیصد بڑھایا جو سال 2020 کے اسی 9 ماہ کے دوران 43.9 فیصد تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here