ٹیسلا کی برقی کاریں بٹ کوائن کے ذریعے خریدنا ممکن

186

کیلی فورنیا: برقی گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ایلون مسک نے کہا ہے کہ صارفین اب کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کے بدلے اپنی پسند کی ٹیسلا برقی کار خرید سکیں گے۔

ایلون مسک نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ “اب آپ بٹ کوائن کے ذریعے ٹیسلا کار خرید سکتے ہیں”، مزید یہ کہ رواں سال کے آخر میں یہ آپشن امریکہ سے باہر کے صارفین کے لیے بھی دستیاب ہو گا۔

برقی کار ساز ٹسلا کے سی ای او نے کہا کہ گزشتہ ماہ ان کی کمپنی نے 1.5 ارب ڈالر کے بٹ کوائن خریدے تھے اور اب کمپنی بٹ کوائن کو گاڑیوں کی خریداری پر ادائیگی کی صورت میں بھی قبول کرے گی۔

واضح رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو 62 ہزار ڈالر کی ریکارڈ سطح پر جا پہنچی تھی۔ ایلون مسک کے حالیہ ٹویٹ کے بعد بھی دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیسلا کا برقی گاڑیوں کیلئے بیٹری سیلز کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ یونٹ لگانے کا منصوبہ

خیبرپختونخوا حکومت کا کرپٹو مائننگ کا آزمائشی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ

ایلون مسک نے کہا کہ صارفین کی طرف سے ٹیسلا کو بٹ کوائن کی شکل میں ادا کی گئی کرنسی کو روایتی کرنسی میں تبدیل نہیں کیا جائے گا، بٹ کوائن کی ادائیگیوں کا طریقہ کیسا ہو گا؟ مسک نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ان کمپنی ‘انٹرنل اور اوپن سورس سافٹ وئیر’ استعمال کرے گی جس کے ذریعے بٹ کوائن کے بدلے برقی گاڑیاں خریدنا ممکن ہو جائے گا۔

ٹیسلا کے علاوہ مائیکروسافٹ اور AT&T انکارپوریشن جیسی بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی اپنے صارفین کو خصوصی ادائیگی کے طریقہ کار کے استعمال کے ساتھ ساتھ بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی کی اجازت بھی دی ہے جسے بعدازاں ڈالرز میں منتقل کرکے کمپنی کو بھیجا جائے گا۔

دیگر کرپٹو کرنسیوں کی طرح بٹ کوائن بھی ابھی تک قلیل مقدار میں عالمی معیشت میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، یہ کرنسی اپنے اتار چڑھاؤ اور سست پراسیسنگ کے دورانیے کی وجہ سے نسبتاََ مہنگی ہے۔

سی ای او ٹیسلا کرپٹو کرنسیوں کے بارے میں باقاعدگی سے ٹویٹ کرتے رہتے ہیں، ایلون مسک نے گزشتہ ماہ اپنے ایک ٹویٹ میں روایتی کیش پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب “اس کا حقیقی فائدہ منفی ہوتا ہے، تو کوئی احمق ہی ہو گا جو کہیں اور نہیں دیکھے گا۔”

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here