پنجاب حکومت کا چینی کی خریدوفروخت کے نظام کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

صوبائی کابینہ کا اجلاس، پنجاب میں مزید چار سیمنٹ پلانٹس لگانے کی منظوری، گندم خریداری کا ہدف 50 لاکھ میٹرک ٹن مقرر، دو لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری

252

لاہور: پنجاب کابینہ نے رواں سیزن میں گندم خریداری کا ہدف 50 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کر دیا جبکہ قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر دو لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔

صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گندم خریداری پالیسی 2020-21ء کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت کاشت کاروں سے 1800 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدے گی جبکہ  گندم خریداری کو ہدف 35 لاکھ میٹرک ٹن سے 50 لاکھ میٹرک ٹن تک رکھا گیا ہے۔

صوبائی کابینہ نے پنجاب شوگر سپلائی چین مینجمنٹ آرڈر 2021ء کی اصولی منظوری دے دی، اس آرڈر کے تحت چینی کی خریدوفروخت کے پورے نظام کو ریگولیٹ کیا جا سکے گا۔ شوگر ملز اور ڈیلرز کے گوداموں کی رجسٹریشن ہو گی اور صرف رجسٹرڈ ڈیلر ہی چینی کی خریدو فروخت کر سکیں گے۔

صوبائی کابینہ نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے نرخ سٹے بازی کے ذریعے بڑھانے کی روک تھام کیلئے آرڈی نینس کی منظوری بھی دے دی، اس آرڈی نینس نے نفاذ سے اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کا قلع قمع کرنے میں مدد ملے گی۔

کابینہ نے پنجاب میں مزید چار سیمنٹ پلانٹس لگانے کی منظوری دے دی، نئے سیمنٹ پلانٹس میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور خوشاب میں قائم ہوں گے جن سے صوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور رو زگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔

قحط سالی سے متاثرہ ضلع خوشاب کی تحصیل نور پور تھل میں کاشت کاروں کو آبیانہ، زرعی ٹیکس اور دیگر واجبات معاف کرنے کی منظوری دی گئی اور نور پور تھل کے 75 مواضعات کو آفت زدہ قرار دیا گیا۔

کابینہ نے سال 2020ء کے مون سون سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام کے نقصانات کے ازالے کیلئے 44 کروڑ روپے کے مالی امداد کے پیکیج کی منظوری دے دی۔

اسی طرح صوبائی کابینہ نے غازی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنس ڈیرہ غازی خان کو چارٹرڈ یونیورسٹی قرار دینے کا معاملہ سپیشل کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

ٹرانسپورٹ وہیکلز کے فٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے نئی پالیسی بنانے اور سویڈش کمپنی اوپس کے ساتھ امور طے کرنے کے لئے کابینہ کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ ریسورس موبلائزیشن کمیٹی کی سال 2019-20ء کیلئے سفارشات کی منظوری دی گئی، ان سفارشات کے تحت روٹ پرمٹ فیس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں پنجاب سول اینڈ ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا، ایلیمنٹری و پرائمری اساتذہ کو ایڈوانس انکریمنٹ دینے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ پراجیکٹس، پروگرامز، پالیسی یونٹس، پولیو سیلز، کمپینز، اتھارٹیز، فاؤنڈیشنز، فنڈز اور کمیشنز میں تعینات افسروں کے لئے خصوصی الاؤنس دینے کا فیصلہ بھی موخر کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کابینہ کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا جائزہ لیا جائے اور کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر جلد اپنی حتمی سفارشات پیش کرے۔

کابینہ نے پنجاب سیلز ٹیکس سپیشل پروسیجر (ٹرانسپورٹیشن/ آئل ٹینکرز کے ذریعے کیرج آف پٹرولیم آئلز) رولز 2020ء کی منظوری دے دی۔

کابینہ نے خصوصی افراد کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ بحالی مرکز/ ہسپتال کے قیام کے لئے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اراضی سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔ ٹاؤن شپ لاہور میں 26 کنال 10 مرلے اراضی پر سپیشل افراد کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنایا جائے گا۔

کابینہ نے چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا، چیئرمین کو اب تنخواہ نہیں ملے گی بلکہ صرف گاڑی اور پی او ایل ملے گا۔ لاہور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ کے چیئرمین اور سرکاری ممبران کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی۔

لاہور رنگ روڈ اتھارٹی ایکٹ 2011ء میں ترمیم کی منظوری دی گئی اور اتھارٹی کا دائرہ کار پنجاب بھر تک بڑھایا جائے گا، اجلاس میں پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وویمن کی سالانہ رپورٹ برائے 2018ء کی منظوری بھی دے دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here