ای سی سی نے نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کیلئے سبسڈی کی ادائیگی کے طریقہ کار کی منظوری دیدی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پشاور تا جلال آباد ریلوے لائن کی فیزیبلٹی سٹڈی کیلئے 61 ملین، قائداعظم اکیڈمی کے قیام کیلئے 29.38 ملین، ای پرکیورمنٹ نظام کی تنصیب کیلئے 233.44 ملین روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی

203

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت فیز وَن میں رواں سال کے آخر تک ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے مقرر کردہ موزونیت و ادائیگی کے طریقہ کار کی منظوری دے دی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ  شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے چئیرمین نے ہاوسنگ سیکٹر کیلئے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ مراعاتی پیکج کے تحت درخواست گزاروں کی موزونیت، سبسڈی کی ادائیگی اور فنڈز کے اجراء کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کے بارے میں بریفنگ دی۔

تفصیلی گفت وشنید کے بعد ای سی سی نے فیز وَن میں رواں سال کے آخر تک ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے مقرر کردہ موزونیت و ادائیگی کے طریقہ کار کی منظوری دے دی، کمیٹی نے نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو وزیراعظم کے وژن کے مطابق کم آمدنی والے طبقات کو کم لاگت گھروں کی تعمیر اور مالکانہ حقوق دینے کیلئے مناسب نرخوں پر ہائوسنگ فنانس کی سہولیات فراہم کرنے کے ضمن میں اقدامات کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں نیا پاکستان ہاوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کم لاگت گھروں کی تعمیر کیلئے سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے تحت پرکیورمنٹ معاہدوں کی اجازت سے متعلق سمری کی منظوری بھی دی گئی۔

اسی طرح اجلاس میں نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گھروں کیلئے قرضہ جات کی سبسڈی سکیم کے کلیدی اشاریوں پر نظرثانی سے متعلق سمری کی منظوری بھی دی گئی جس کی سفارش سٹیٹ بینک نے کی تھی۔

اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے سوئی ناردرن گیس کی بنیاد پر چلنے والے فرٹیلائزر پلانٹس کے ستمبر 2018ء سے لے کر نومبر 2019ء تک کی مدت میں تاخیر شدہ ادائیگی پر سرچارج سے متعلق سمری پیش کی گئی۔

کمیٹی نے متعلقہ شراکت داروں سے اس بارے میں رائے لینے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے موخر کر دیا اور ہدایت کی کہ تاخیرسے ادائیگی پر سرچارج کا تعین حقیقی لاگت پر کیا جائے اور نظرثانی شدہ سفارشات کمیٹی کے روبرو پیش کی جائیں۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے فیول سرچارج ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے حوالہ سے فیصلہ کے اختیار سے متعلق سمری پیش کی گئی، کمیٹی نے سمری کا تفصیل سے جائزہ لیا اور وزارت خزانہ و پاور ڈویژن کے سیکرٹریز کو اِس معاملے پر مزید مشاورت کرنے اور ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں اَپ ڈیٹ سفارشات و تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ بقایا جات و ٹیرف سے متعلق امور کے حل سے متعلق تجویز سامنے رکھی گئی، تفصیلی جائزہ کے بعد ای سی سی نے اس ضمن میں ذیلی کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین کمیٹی کے چئیرمین ہوں گے، کمیٹی کے دیگر ارکان میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پاور ڈویژن، معاون خصوصی برائے توانائی، وزارت آبی وسائل، واپڈا، نیپرا اور آزاد کشمیر حکومت کے نمائندے شامل ہیں۔

اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے تھر کول بیسڈ پراجیکٹ کیلئے مقامی بینکوں سے 15.250 ارب روپے کے قرض کیلئے حکومت پاکستان کی گارنٹی سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی۔

سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے کمیٹی کو ای سی سی کے فیصلے کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعہ تین لاکھ ٹن گندم کی درآمد سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن نے اس ضمن میں 9واں بین الاقوامی ٹینڈر کھول دیا ہے۔ اجلاس میں تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں لوئی شلمان ویلی کے راستے پشاور کو افغانستان کے شہر جلال آباد تک ریلوے لائن سے منسلک کرنے کے منصوبہ کی فیزیبلٹی سٹڈی کیلئے 61 ملین روپے، کراچی میں قائداعظم اکیڈیمی کے قیام کیلئے قومی ادبی و ثقافتی ورثہ ڈویژن کو 29.38 ملین روپے، گارڈن ویسٹ (پاکستان کوارٹرز) کی لیز کی تجدید کیلئے وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس کو 413.77 ملین روپے اور ای پرکیورمنٹ نظام کی تنصیب کیلئے پاکستان پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کیلئے 233.44 ملین روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء شیخ رشید، محمد میاں سومرو، عمر ایوب، حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر، سیکرٹری خزانہ، پاور ڈویژناور  قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوار، چئیرمین نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ، اور دیگر سینئرحکام نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here