پاکستانی فری لانسرز نے بھارت، بنگلہ دیش، چین کو پیچھے چھوڑ دیا

340

لاہور: کورونا وائرس کی وبا کے عالمی معیشت پر منفی اثرات کے باوجود سال 2020ء میں پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں 150 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ نے سال 2020ء کے لیے ‘پاکستنان کی آئی ٹی انڈسٹری’ کے نام سے ایک تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے، یہ رپورٹ ملکی آئی ٹی انڈسٹری کی کامیابیوں کی صورت حال پر روشنی ڈالتی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے فری لانسرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ناصرف مقامی سطح پر آئی ٹی سروسز کے کئی نئے منصوبے شروع ہوئے ہیں بلکہ پاکستانی فری لانسرز نے دنیا بھر میں اپنے کلائنٹس کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

فری لانسنگ سے پاکستان کے زرمبادلہ میں 42 فیصد اضافہ

وزیر اعظم نے ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ ڈرون ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیدی

پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے دوران عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں سب سے زیادہ آرڈرز حاصل کرنے والی مقبول سروسز ویب ڈویلپمنٹ، لوگو ڈیزائننگ اور پروگرامنگ رہی ہیں اور ان تینوں شعبوں میں پاکستانی فری لانسرز چھائے رہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2020ء میں پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد میں بتدریج اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے لیے نوجوانوں کو کروائے جانے والے کورسز بھی ہیں جو بالکل مفت کروائے جا رہے ہیں اور جن کی وجہ سے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں نئے نوجوان فری لانسنگ کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔

گزشتہ سال کے دوران 120 سے زائد ممالک کو آئی ٹی سروسز کی برآمدات کی گئیں جس سے پاکستانی فری لانسرز نے 150 ملین ڈالر کمائے، اس کے علاوہ پاکستانی فری لانسرز نے ایشیا میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں آمدن میں اضافے کے لحاظ سے دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر رہا۔

رینکنگ میں امریکہ، برطانیہ اور برازیل ہی پاکستان سے محض کچھ پوائنٹس کے ساتھ آگے ہیں، پاکستان میں زیادہ تر نوجوان فری لانسرز کی عمریں 20 سال سے 30 سال کے درمیان ہیں اور یہ کل پاکستانی فری لانسرز کا 60 فیصد بنتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here