ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا 330 ارب کے ریفنڈز ادا کرنے کا مطالبہ

300 ارب روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز اور 30 ارب روپے ڈیوٹی ڈراء بیک آف ٹیکسز کی ادائیگی گزشتہ دو سالوں سے زیرِالتوا ہے: پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

160

فیصل آباد: پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پٹیا) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 330 ارب روپے کے ریفنڈ کلیمز جلد ادا کئے جائیں کیونکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز سنگین مالی مسائل کا شکار ہیں اور برآمدی آرڈرز پورے کرنا ممکن نہیں رہا۔

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے موسمی تغیرات، ناقص بیج، غیر معیاری کھادوں، پانی کی کمی اور دیگر عوامل کے باعث رواں سال کپاس کی مقامی پیداوار تقریباََ 60 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی کپاس و دھاگے کی طلب میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

ایسوسی ایشن  کے مطابق مارکیٹ میں کاٹن یارن کی شدید قلت کے نتیجہ میں دھاگے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں جس نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا ہے لہٰذا ایکسپورٹرز کو سنگین مالی مسائل اور برآمدی عمل کو متاثر ہونے بچانے کیلئے 330 ارب روپے کے ریفنڈز جلد ادا کئے جائیں تاکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر اپنا بزنس جاری رکھنے کے قابل ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے:

برآمدات بڑھنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 32 فیصد اضافہ

سات ماہ میں نان ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 5.49 ارب ڈالر تک جا پہنچیں

پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر پائوں پر کھڑا ہونے لگا، برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی طلب میں 50 فیصد تک اضافہ کی وجہ سے مارکیٹ میں کاٹن یارن کی شدید قلت پیدا ہونے کے باعث دھاگے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں جس سے ایکسپورٹرز شدید مشکلات میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 300 ارب روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز اور 30 ارب روپے کے ڈیوٹی ڈراء بیک آف ٹیکسز کی ادائیگی گزشتہ دو سالوں سے زیرالتوا ہے اسی لئے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز سنگین مالی مسائل کا شکار ہیں اور برآمدی عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وبا کے مشکل حالات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایکسپورٹرز کو پانچ کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس ریفنڈز کی جزوی ادائیگی کی تاہم اربوں روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی تاحال باقی ہے۔

خرم مختار نے کہا کہ یہ امر اطمینان بخش تھا کہ کورونا کے دوران حکومت کے بہتر اقدامات اور کاروبار دوست پالیسیوں سے ایکسپورٹرز کو وسیع پیمانے پر ایکسپورٹ آرڈرز ملے لیکن کپاس کی قلت اور کاٹن یارن کی کمی نے اس ساری پریکٹس پر پانی پھیر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کپاس کی برآمد فوری نہ روکی گئی اور اس کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت نہ دی گئی تو ٹیکسٹائل سیکٹر خصوصاََ ایکسپورٹ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی جس سے ملک قیمتی زر مبادلہ کے حصول سے محروم ہو جا ئے گا۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ نے کہا کہ کاٹن کی طلب و رسد میں واضح فرق اور عدم توازن کی وجہ سے یارن کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث بحران کا شکار ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے مالی مشکلات کا شکار ہے اور انہی مسائل کی وجہ سے بر آمدی آرڈرز کی تکمیل ممکن نہیں رہی۔ امید ہے کہ متعلقہ ادارے اس جانب فوری توجہ دیں گے تاکہ صورت حال کو مزید ابتر ہونے سے بچایا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here