امریکا کے بعد بھارت میں بھی چینی کمپنی ہواوے پر پابندی کا امکان

216

نئی دہلی: بھارت میں حائل ہی میں منظور کیے گئے قوانین کے تحت چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے تیارکردہ ٹیلی کام آلات کے استعمال پر پابندی لگنے کا امکان ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ٹیلی کام آلات کی خریداری کیلئے پروکیورمنٹ قوانین کی منظوری دی گئی جو رواں سال جون نافذ ہو جائیں گے اور جن کی زد میں ہواوے میں آ سکتی ہے۔

دراصل ہواوے پر ممکنہ پابندی لگانے کے پس منظر میں نئی دہلی کے سکیورٹی سے متعلق خدشات اور مقامی ٹیلی کام مارکیٹ کو ترقی دینے کی خواہش کارفرما ہے۔

امریکہ کی جانب سے ہواوے کی مصنوعات کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندیوں کا سلسلہ دنیا بھر میں زور پکڑ رہا ہے لیکن بھارت میں صورت حال کچھ اس وجہ سے بھی مختلف ہے کیونکہ اس کے چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے باعث تعلقات کشیدہ ہیں۔

بھارت کے محکمہ ٹیلی کام نے کہا ہے کہ 15 جون 2021ء کے بعد ٹیلی کام کمپنیاں صرف حکومت کے بااعتماد ذرائع کی منظوری سے ہی مخصوص نوعیت کے آلات خرید سکیں گی کیونکہ اس سلسلے میں ایک بلیک لسٹ بھی تیار کر جا سکتی ہے۔

بھارت کے دو اعلیٰ سرکاری حکام نے خبر ایجنسی رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہواوے کو بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کا بھی امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

بائٹ ڈانس کا بھارت میں ٹک ٹاک کے اثاثے فروخت کرنے پر غور

سال 2020ء کے دوران انٹرنیٹ پر پابندیوں والے 29 ممالک میں بھارت سرفہرست رہا

پینٹاگون کے تحفظات کے باوجود ہواوے پر پابندیوں کے حوالے سے ٹرمپ حکومت تذبذب کا شکار

ان میں سے ایک عہدیدار نے کہا کہ “اگر سرمایہ کاری سے قومی سلامتی کو خطرات درپیش ہیں تو ہم معاشی مفادات کیلئے ملکی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘‘

اگرچہ محکمہ ٹیلی کام نے ہواوے سے متعلق کسی بھی بیان سے گریز کیا ہے اور ابھی تک محکمے نے بااعتماد ذرائع یا خریداری کی بلیک لسٹ کے منصوبے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

تاہم ایک تیسرے سرکاری اہلکار نے اپنی شناخت نہ بتانے کی شرط رائٹرز کو بتایا کہ چین کی ایک دوسری کمپنی زیڈ ٹی ای کارپوریشن کو بھی بھارت سے نکالا جا سکتا ہے گو یہ کمپنی بھارتی مارکیٹ میں معمولی شئیر رکھتی ہے۔

ہواوے اور زیڈ ٹی ای پر چینی حکومت کے ایماء پر جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں اور اس سلسلے میں ہواوے کو امریکا میں پوچھ تاچھ کے عمل سے بھی گزرنا پڑا ہے۔

تاہم دونوں کمپنیوں نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کی ہے، اس سے قبل ہواوے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ کمپنی سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ہواوے اور زیڈ ٹی ای نے موجودہ صورت حال پر کوئی بیان نہیں دیا۔

بھارت کی تین بڑے ٹیلی کام آپریٹرز میں سے دو کمپنیاں بھارتی ائیرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا ہواوے کے آلات استعمال کر رہی تھیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ہواوے کے آلات پر پابندی کی صورت میں بھارت میں الات کی لاگت بڑھنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here