ملائیشیا، سیاحوں کی آمد میں 2020ء کے دوران 83 فیصد کمی، اربوں ڈالر کا نقصان

184

کوالالمپور: کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث دنیا بھر میں فضائی سفر کی معطلی اور لاک ڈائون کی پابندیوں نے جہاں دیگر شعبوں کو شدید متاثر کیا وہیں سیاحتی صنعت کو مکمل تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔

ایسے ممالک جن کی کلی معیشت کا انحصار صرف اور صرف سیاحت پر تھا وہاں حالات نہایت دگرگوں صورت حال اختیار کر گئے ہیں جبکہ سیاحت پر جزوی اںحصار کرنے والے ممالک کو سیاحوں کی تعداد میں واضح کمی کے باعث اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ملائیشیا میں غیرملکی سیاحوں کی آمد میں سال 2020ء کے دوران 83.4 فیصد کمی ہوئی جس کی وجہ کورونا وائرس کے باعث سیاحتی پابندیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

دس ماہ  میں عالمی سیاحت کو 93 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان

وزیراعظم کی تاریخی سیاحتی مقامات کی اصل شکل میں بحالی کی ہدایت

لاہور نیویارک ٹائمز کی 2021ء کے بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل

پورے سال کے دوران کل صرف 43 لاکھ 30 ہزار سیاح ملائیشیا آئے جبکہ سال 2019ء میں ملائیشیا جانے والے سیاحوں کی تعداد دو کروڑ 61 لاکھ تھی۔

چین کی شنہوا نیوز نے ملائیشیا ٹورازم پروموشن بورڈ کی جاری کردہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پابندیوں کی وجہ سے سیاحتی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2019ء کے دوران 26.1 ملین غیر ملکی سیاحوں نے ملائیشا کا رخ کیا تھا جبکہ سال 2020ء کے دوران ان کی تعداد سالانہ بنیاد پر 83.4 فیصد کمی کے ساتھ 4.33 ملین رہی۔

ملائیشیا میں سیاحوں کی سب سے پرکشش جگہ دارالحکومت کوالالمپور کے پیٹروناس ٹوئن ٹاور ہیں، اس کے علاوہ ہر سال لاکھوں سیاح سیلانگور (Selangor) میں واقع باتُو غاریں دیکھنے جاتے ہیں، یہ لاکھوں سیاح ملائیشیا کی معیشت میں سالانہ اربوں ڈالر کا حصہ ڈالر ہیں۔

ٹوورازم بورڈ کا کہنا ہے کہ 2020ء میں سیاحوں کی آمد میں کمی سے اس شعبے کی آمدنی بھی سالانہ بنیاد پر 85.3 فیصد کم ہو کر 12.69 ارب رنگٹ (3.07 ارب ڈالر) رہی جو 2019ء میں 86.14 ارب رنگٹ رہی تھی۔

سال 2020ء کے دوران سیاحوں کے فی کس اخراجات کی شرح بھی سالانہ بنیاد پر 11.3 فیصد کم ہو کر 2928 رنگٹ رہی جو 2019ء میں 3300 رنگٹ فی کس رہی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here