فنڈز دیگر منصوبوں کو منتقل، پشاور ناردرن بائی پاس منصوبہ تاخیر کا شکار

پشاور ناردرن بائی پاس پروجیکٹ کے لیے ایک ارب 35 کروڑ روپے مختص کیے گئے، 41 کروڑ سے زائد دیگر منصوبوں کو منتقل، بائی پاس منصوبے پر ایک پائی بھی خرچ نہ ہو سکی

204

پشاور: پشاور میں ناردرن بائی پاس پروجیکٹ مختص کردہ وسائل کے استعمال نہ کرنے اور فنڈز دیگر منصوبوں کو منتقل کرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ 

اس پیشرفت سے متعلق باخبر ذرائع نے نمائندہ پرافٹ اردو کو بتایا کہ منصوبہ میں انتظامی اور سیاسی طور پر رکاوٹ ہے اس لیے ناردرن بائی پاس پروجیکٹ کے بقیہ حصے کی تعمیر گزشتہ تین سال سے فنڈز میں کٹوتی یا فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا کی طرف سے منصوبے کے لیے ایک ارب 35 کروڑ روپے میں سے 416 ملین روپے کٹوتی اور دیگر منصوبوں میں منتقل کیے گئے۔ جاری کردہ ایک ارب 35 کروڑ روپے میں سے ابھی تک ایک پائی بھی منصوبے پر خرچ نہ کی جا سکی۔

پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے 350 ملین روپے کی مذکورہ رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جبکہ محکمہ بلدیات نے منصوبے میں سے 116 ملین روپے کی کٹوتی کی۔

ذرائع نے بتایا کہ پشاور ناردرن بائی پاس پروجیکٹ کی کُل مختص کردہ رقم میں سے 416 ملین روپے کی رقم واپس لی گئی جبکہ آئندہ کچھ روز میں بقیہ کے 584 ملین روپے کی کٹوتی کا بھی امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here