سعودی عرب، یو اے ای کی جانب سے دو ارب ڈالر کا قرض برقرار

775

اسلام آباد: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے اپنا قرض واپس لینے کی بجائے دو ارب ڈالر برقرار رکھے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور دونوں خلیجی ممالک کے تعلقات میں قدرے بہتری آئی ہے۔

ایک انگریزی اخبار نے اعلیٰ سرکای عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کی رقم ابھی تک پاکستان کے پاس ہی رکھی ہوئی ہے۔

سعودی عرب نے 2018ء میں تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے تھے کیونکہ اس وقت پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کیلئے رقم کی ضرورت تھی۔

بعد ازاں پاکستان نے سعودی عرب کو دو ارب ڈالر قسط وار واپس لوٹا دئیے جو چین سے حاصل کیے گئے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث سعودی عرب نے رقم واپس مانگی ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک ارب ڈالر مزید ایک سال کیلئے  پاکستان کے پاس برقرار رکھے ہیں۔ گو کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو قرض کی واپسی جنوری کے چوتھے ہفتے تک کرنا تھا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب سے 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی امدادی پیکج حاصل کیا تھا جس میں تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے جبکہ تین ارب ڈالر کا تیل موخر شدہ ادائیگیوں کی بنیاد پر دینے کی حامی بھری گئی۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان کو 6.2 ارب ڈالر فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم بعد ازاں محض دو ارب ڈالر ہی پاکستان کو منتقل کیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here