سال 2020ء: دوسری سہ ماہی میں 250 ارب کے ٹیکس کیسز نمٹائے گئے

دسمبر 2020ء تک کی آخری سہ ماہی میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ نے 81.7 ارب روپے مالیت ریونیو کے 934 کیسز نمٹائے، ایپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے اسی عرصہ میں 168.5 ارب روپے پر مشتمل ریونیو کے 1240 کیسز نمٹائے

251

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2020ء کی آخری سہ ماہی کے دوران ٹیکس معاملات سے متعلق دو ہزار 174 کیسز نمٹائے جن میں ٹیکس کی مالیت تقریباََ اڑھائی ارب روپے بنتی تھی۔

دسمبر 2020ء تک کی آخری سہ ماہی میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ نے 81.7 ارب روپے مالیت ریونیو کے 934 ٹیکس سے متعلقہ کیسز نمٹائے جبکہ ایپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے اسی عرصہ میں 168.5 ارب روپے پر مشتمل ریونیو کے 1240 کیسز نمٹائے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ادارہ اور ٹیکس گزاروں کے درمیان تصفیہ جات کے متبادل حل کے ضمن میں ٹیکس گزاروں کی درخواست پر 18 کمیٹیوں نے کیسز کو نمٹانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ایف بی آر نے جنوری میں ہدف سے 24 ارب روپے زائد ٹیکس جمع کر لیا

پنجاب ریونیو اتھارٹی، جنوری میں 10 فیصد اضافے سے 11.23 ارب ٹیکس جمع

ایف بی آر کی جانب سے اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس کے مختلف اپیل فورمز بشمول کمشنرز اِن لینڈ ریونیو اپیلز، ایپیلیٹ ٹربیونل اِن لینڈ ریونیو، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التواء کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے اقدامات اٹھا رہا ہے۔

ایف بی آر نے اپیل کے پہلے مرحلے یعنی کمشنرز اپیلز لیول کے پراسیس کے ضمن میں یکم جنوری 2021ء سے اپیلوں کی الیکٹرانک فائلنگ کے نظام کو متعارف کرایا ہے۔ ای فائلنگ کے ذریعے ٹیکس گزار نہایت آسانی کے ساتھ اپنے متعلقہ فیلڈ دفتر جائے بغیر آن لائن طریقہ سے کسی بھی آرڈر کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

ای فائلنگ طریقہ کار متعارف کرنے سے پیشتر بھی پرفارمنس معاہدہ کے تحت کیسز کو نمٹانے کی رفتار ہدف سے تجاوز کر رہی تھی۔ جولائی تا دسمبر 2020ء میں کمشنرز اِن لینڈ ریونیو اپیلز نے مقرر کردہ ہدف سات ہزار 818 کیسز سے تجاوز کرتے ہوئے 17 ہزار 768 اپیلوں کو نمٹایا۔

اسی طرح ایف بی آر کی درخواست پر ٹیکس سے متعلقہ مقدمات کی جلد سماعت اورفیصلے کے لئے سندھ ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی بینچز تشکیل دیئے۔

اس کے علاوہ ایک نئی پالیسی متعارف کی گئی ہے جس کے تحت قابل وکیلوں کو تعینات کیا جا سکے گا اور کم تجربہ کار وکیلوں پر خرچ ہونے والا حکومتی ریونیو بچایا جا سکے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے دسمبر 2020ء تک کی آخری سہ ماہی میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ نے 81.7 ارب روپے مالیت ریونیو کے 934 ٹیکس سے متعلقہ کیسز نمٹائے ہیں۔ ایپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے اسی عرصہ میں 168.5 ارب روپے پر مشتمل ریونیو کے 1240 کیسز نمٹائے.

ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے اے ڈی آر سی (متبادل تنازعات کی کمیٹیاں) کا نظام تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت ٹیکس گزار نامزد کمیٹیوں کے ذریعے اپنے زیر التوء کیسز کو بہت قلیل وقت میں اور بغیر کسی خرچہ کے حل کروا سکتے ہیں۔ اب تک ٹیکس گزاروں کی درخواست پر 18 کمیٹیوں نے کیسز کو نمٹانے کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔

ایف بی آر نے مزید وضاحت کی ہے کہ فنانس ایکٹ 2020ء کے ذریعے قانون میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق ٹیکس گزار کسی دوسرے اپیل فورم سے اپنا کیس واپس لئے بغیر اے ڈی آر سی کے ذریعے اپنے کیس کو حل کروانے کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔

ٹیکس گزاروں کا اس نظام پر اعتماد مضبوط کرنے کے لئے اے ڈی آر سی کے ممبران میں متعلقہ چیف کمشنر کے علاوہ معزز جج صاحبان، چارٹرڈ اکاونٹنٹ اور چیمبرز آف کامرس کی طرف سے نامزد کردہ کاروباری افراد بھی شامل کئے گئے ہیں۔ کمیٹی کو مشکل کیسز میں ریکوری کو  روکنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے مزید وضاحت میں کہا ہے کہ ٹیکس گزاروں کی درخواستوں کو کمیٹی 120 ایام کی قلیل مدت میں نمٹانے کی ذمہ دار ہو گی جو کہ ٹیکس گزاروں کے لئے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here