حکومت کے ذمہ واجب الادا مقامی قرض 241 کھرب 10 ارب ہو گیا

نومبر 2019ء میں مقامی قرضوں کا حجم 214 کھرب 10 ارب روپے تھا جو نومبر 2020ء میں 27 کھرب روپے اضافے سے 241 کھرب 10 ارب روپے تک بڑھ گیا، سٹیٹ بینک

372

لاہور: وفاقی حکومت کے ذمہ واجب الادا مقامی قرض کے حجم میں رواں  مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 825 ارب روپے اضافہ ہو گیا جس سے قرضوں کا مجموعی حجم 241 کھرب 10 ارب روپے تک جا پہنچا۔

تاہم قرضوں کے رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری مالی سال کے پانچ ماہ کے دوران قرض لینے کی رفتار گزشتہ 12 ماہ کے مقابلے کافی سست رہی۔

روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قرضوں سے متعلق جاری کردہ اعدادوشمار کا تجزیہ کیا گیا ہے جس کے مطابق نومبر  2019ء میں مقامی قرضوں کا حجم 214 کھرب 10 ارب روپے تھا جو نومبر 2020ء میں 27 کھرب روپے اضافے سے 241 کھرب 10 ارب روپے تک بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیے: 

پی ٹی آئی حکومت نے کتنے ارب ڈالر قرضہ لیا؟

سال 2020ء: حکومت نے کتنا قرضہ لیا اور کتنا واپس کیا؟

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر 2019ء سے لے کر نومبر 2020ء تک مقامی قرض اور واجبات میں 27 کھرب 50 ارب روپے اضافہ ہوا۔

تقریباََ پچاس فیصد سے زائد مقامی قرض پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کے ذریعے متحرک کیا گیا۔ حکومت نے ان بانڈز کے ذریعے نومبر 2020ء تک 140 کھرب 33 ارب روپے حاصل کیے جو ایک سال کی مدت میں 18 کھرب 27 ارب روپے اضافی تھے۔

تاہم اس میں پانچ ماہ کے دوران 11 کھرب 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت نے اس عرصہ میں قرض لینے کیلئے حارحانہ طریقہ اپنایا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here