ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث 2020ء تاریخ کا گرم ترین سال قرار

عالمی سطح پر 2011ء سے 2020ء کی دہائی گرم ترین رہی ہے جبکہ آخری 6 سال سب سے گرم ریکارڈ کیے گئے ہیں

81

اسلام آباد: ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث سال 2020ء تاریخ کا گرم ترین سال رہا، کیا رواں سال گرمی کی شدت اور کاربن اخراج میں مزید اضافہ ہو گا؟

یورپی یونین کے مصنوعی سیارے (سیٹلائٹ) سے موصولہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2020 کو تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا جا رہا ہے، برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آب و ہوا میں تبدیلی پر نظر رکھنے والی تنظیم کوپر نیکس کلائمیٹ چینج سروس نے کہا ہے کہ اگر گذشتہ طویل عرصہ کے اوسط درجہ حرارت کو مد نظر رکھا جائے تو سال 2020ء میں درجہ حرارت تقریباََ 1.25 سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

سائنسدانوں نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کی بڑی وجہ قطب شمالی یا آرکٹیک اور سائبیریا میں بڑھتی ہوئی گرمی ہے۔

گذشتہ 12 ماہ میں باقی دنیا کے علاوہ یورپ میں بھی ریکارڈ گرمی پڑی اور 2019ء کے مقابلہ میں درجہ حرارت 4۔0 سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019ء میں عالمی تنظیم برائے موسمیات نے پیشگوئی کی تھی کہ تاریخ کے گرم ترین سالوں میں سے ایک 2020ء سال بھی ہو گا۔

کوپرنیکس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی ہے اور سال 2020ء گرم ترین سالوں کی فہرست میں سب سے اوپر رہا ہے۔ درجہ حرارت سے متعلق اعداوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 1850ء سے 1900ء کے دوران درجہ حرارت کی اوسط کی نسبت سال 2020ء میں ماحول 1.25 سینٹی گریڈ زیادہ گرم رہا۔  1850ء سے 1900ء کے دورانیے کو صنعتی دور سے پہلے کا وقت تصور کیا جاتا ہے

درجہ حرارت بڑھنے کا اندازہ آرکٹیک اور سائبیریا میں گرمائش کا سلسلہ جاری رہنے سے بھی لگایا گیا ہے، وہاں چند مقامات پر تاریخی اوسط کے مقابلہ میں سالانہ درجہ حرارت 6 سینٹی گریڈ زیادہ بتایا گیا ہے۔

گرمی میں اضافہ کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق آرکٹیک دائرے میں لگنے والی آگ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ایک بڑی مقدار خارج ہوئی جو 2019ء میں اسی نوعیت کے واقعات کی نسبت زیادہ تھی۔

کوپرنیکس کی رپورٹ کے مطابق سال 2016ء کے مقابلہ میں 2020ء کچھ سرد تھا لیکن دونوں سالوں کے دوران درجہ حرارت کے اعداد و شمار ایک جیسے ہی ہیں کیونکہ ان میں بہت کم فرق ہے۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ایل نینو/ لانینا ویدر سائیکل (بحر اوقیانوس کے پانی کی سطح کے درجہ حرارت میں متواتر تبدیلی) کے اثرات کے پیش نظر دونوں سالوں کے درمیان مماثلت کافی اہم ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق بھی 2016ء کے ساتھ اعدادوشمار کے بہت کم فرق کے ساتھ سنہ 2020ء تاریخ کا گرم ترین سال رہا۔ 2016ء اسی تبدیلی کی وجہ سے گرم رہا جبکہ 2020ء اسی تبدیلی سے اپنی دوسری ششماہی میں تھوڑا سا سرد ہوا۔

یورپی یونین کےاعداد و شمار کے مطابق یہاں 2019ء کی نسبت زیادہ گرمی پڑی اور درجہ حرارت 0.4 سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ جولائی اور اگست 2020ء میں ہیٹ ویو ایک اہم وجہ تھی جس نے براعظم یورپ میں گرمی کی شدت بڑھا دی۔

عالمی سطح پر 2011ء سے 2020ء کی دہائی گرم ترین رہی ہے جبکہ آخری 6 سال سب سے گرم ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ڈائریکٹر کارلو بونٹیمپو کے مطابق سال 2020ء آرکیٹک خطے کے لیے بہت گرم رہا اور اس کی وجہ سے شمالی اٹلانٹک کے جنگلوں میں کئی طوفان آئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ گذشتہ دہائی میں ریکارڈ گرمی پڑی۔ مستقبل میں ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے نمٹنے کے لیے کاربن کے اخراج کو کم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 2021ء میں ماحول کچھ سرد ہونے کا امکان ہے لیکن ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی سطح زیادہ رہنے کی توقع ہے جس سے گرمی جاری رہے گی۔

برطانیہ کے محکم موسمیات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اوسط سطح صنعتی انقلاب کے پہلے کے دور کے مقابلہ 50 فیصد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

محققین کے مطابق سال 2020 کے مقابلہ میں سال 2021 میں ہوائی کے ریکارڈنگ سٹیشن مونالوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اوسط سطح 2.29 پی پی ایم زیادہ ہو گی۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران صنعتی بحران کے باوجود سائنسدانوں کے مطابق حیاتیاتی ایندھن کے استعمال اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

برساتی جنگلات میں لانینا کے اثرات کی وجہ سے پیداوار بڑھ سکتی ہے اور گیس جذب کرنے کے عمل کو فروغ مل سکتا ہے لیکن اس سے اخراج کم کرنے میں شاید مدد نہ مل سکے۔

برطانوی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اپریل سے جون تک ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 417 پی پی ایم سے تجاوز کر سکتی ہے۔ 18ویں صدی کے آخر میں جب صنعتی سرگرمیوں کا آغاز ہو رہا تھا تو اس وقت یہ مقدار 278 پی پی ایم ہوتی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ اٹھارویں صدی کے مقابلہ میں 2021 میں یہ 50 فیصد زیادہ ہوگی۔

محکمہ موسمیات کے پروفیسر رچرڈ بیٹز نے کہا ہے کہ انسانوں کی وجہ سے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سطح کو 25 فیصد تک بڑھنے میں 200 سال سے زیادہ کا عرصہ لگا لیکن صرف گذشتہ 30 برس میں یہ 50 فیصد کے تجاوز کی سطح کو چھو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ روکنے اور ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہوگا اور اسے روکنے کے لیے عالمی اخراج کو صفر پر لانا ہو گا، آئندہ 30 سالوں میں ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ عالمی حدت کو 1.5 سینٹی گریڈ کی سطح تک محدود رکھا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here