امریکا کی مزید 9 چینی کمپنیوں پر پابندیاں، شیاﺅمی کے شئیرز 11 فیصد گر گئے

126

ہانگ کانگ/بیجنگ: چین کی ٹیکنالوجی اور سمارٹ فون بنانے والی کمپنی شیائومی کے حصص کی قیمت 11 فیصد سے زیادہ گر گئی جس کی وجہ امریکا کا اسے بلیک لسٹ کرکے ملکی سرمایہ کاروں کو اس میں سرمایہ کاری سے روکنا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں حکومت اور فوج کے قریب ہونے کے باعث سب سے بڑی عالمی معیشت کی سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور امریکی شہریوں کا ڈیٹا چینی فوج کو دے سکتی ہیں، اس لیے تازہ ترین اقدامات کے تحت شیائومی سمیت چین کی نو کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہیں۔

امریکا کی جانب سے نئے احکامات کے تحت لگائی جانے والی پابندیوں کی زد می ں چین کی اسٹیٹ آئل کمپنی  CNOOC، اسمارٹ فون کمپنی شیائومی اور ٹک ٹاک بھی شامل ہیں۔

اپنی کمپنیوں پر نئی پابندیوں کے بعد بیجنگ نے ردعمل میں امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ بغیر کسی وجہ کے چینی کمپنیوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  بلاوجہ چینی کمپنیوں کیخلاف بار بار کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے جس کی چین سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے شیاﺅمی کی بلیک لسٹنگ اور سرمایہ کاروں کو اس سے دور رکھنے کے فیصلے کے بعد چینی ٹیکنالوجی کمپنی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شیاﺅمی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلیک لسٹنگ امریکی حکومت کا ایک اور چینی کمپنی پر اقتصادی حملہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here