‘افغانستان اور وسط ایشیا کے ساتھ پاکستان کو معاشی مرکز بنائے گی’

357

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں (سی اے آرز) کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے ذریعے پاکستان کو تجارتی ہب، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کا مرکز بنایا جائے گا۔ 

مشیر تجارت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ “ہماری تجارت کی بنیاد افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بہترین انفراسٹرکچر اور علاقائی روابط کے علاوہ افغان سرحد پر مصنوعات کی قانونی طور پر نقل و حرکت کو محفوظ، کُھلا، مسلسل اور قابلِ بھروسہ بنانے پر ہونی چاہیے”۔

انہوں نے کہا کہ “یہ ایک طویل المدتی ویژن ہے جس کے لیے ہم افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے ذریعے اپنی اس تجارت پرعملدرآمد کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں، حکومت کا یہ ویژن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خطے میں پاکستان اپنی جیو اکانومک لوکیشن کے اعتبار سے بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لیے سود مند ملک ہے، چند دنوں سے افغانستان کے ساتھ ہمارے مذاکرات درست سمت میں ہیں”۔

مشیرِتجارت نے کہا کہ گوادر پورٹ توانائی سے مالا مال وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان کے لیے ریجینل ٹریڈ کنیکٹویٹی کے ذریعے بڑے مواقع فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

گوادر پورٹ پر بین الاقوامی تجارت شروع، پہلا فش کارگو لنگر انداز

مالی سال 2021 میں پاکستان کی شرح نمو جنوبی ایشیا میں سب سے کم رہے گی : ورلڈ بنک

جنوبی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی برآمدات اور ان ممالک سے درآمدات میں کمی

انہوں نے کہا کہ حکومت خطے میں تجارت کے فروغ کے لیے اکانومک انٹیگریشن کو ترجیح دے رہی ہے، گوادر پورٹ کے ذریعے ان تجارتی پلئیرز کو خطے میں کنیکٹ کرنا اہم ہے۔

اس سے قبل، مشیرتجارت نے کہا تھا کہ وسط ایشیائی ریاستیں بین الاقوامی اور علاقائی تجارت کے لیے گوادر اور بن قاسم پورٹ میں گوداموں اور تجارتی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ افغان حکومت نے پاکستان سے گوادر پورٹ پر کراس سٹفنگ کی سہولت کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کی گہری بندرگاہ کی اپنی جیوسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت ہے جو علاقے کو جوڑنے کے لیے مرکز میں واقع ہے، خطے کو ملانے کے لیے گوادر سے کندھار ریلوے لنک بچھا کر افغانستان کے دیگر علاقوں کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

رزاق داؤد نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے پورے خطے میں ترسیلی روٹ قائم کرکے وسط ایشیا تک تجارت کی جا سکتی ہے۔

داؤد نے مزید کہا کہ پاکستان سینٹرل ایشیا اکانومک کوآپریشن (سی اے آر ای سی) اور کوآڈری لیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (کیو ٹی ٹی اے) کی ریجنل فورمز میں فعال طور پر حصہ لے رہا ہے تاکہ جب گوادر پورٹ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ فعال ہو تو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here