ٹیلی کام کمپنیوں پر پابندی، چین کا امریکا پر جوابی وار کا عندیہ

194

شنگھائی: نیویارک اسٹاک ایکسچینج (این وائے ایس ای) سے چینی ٹیلی کام کمپنیوں کے ڈی لسٹ ہونے کے ردِ عمل میں چین نے کہا ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے ‘ضروری اقدامات’ کرے گا۔ 

کچھ روز قبل، امریکی وزارتِ تجارت نے چینی کمپنیوں پر مبینہ طور پر چین کی ملٹری کنٹرولڈ اور انٹیلی جنس سروسز کے زیرِاثر ہونے کا الزام عائد کیا تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کمپنیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر بھی جاری کیا تھا۔

این وائے ایس ای نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر میں کیے گئے اقدامات کے تحت چائنا موبائل کمپنی، چائنا یونی کام اور چائنا ٹیلی کام کو ڈی لسٹ کر رہی ہے، واشنگٹن نے 31 فورمز پر یا تو چینی ملکیتی یا چین کی ملٹری کے زیراثر ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

چینی وزارتِ تجارت نے جواب میں کہا تھا کہ “امریکہ کی نیشنل سکیورٹی اور اسٹیٹ پاور کی آڑ میں چینی کمپنیوں کے خلاف کارروائی مارکیٹ قوانین اور مارکیٹ لاجک کی خلاف ورزی ہے”۔

چینی وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ “اس سے نہ صرف چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق کو نقصان پہنچا ہے بلکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک میں سرمایہ کاروں کے مفادات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے”۔

یہ بھی پڑھیے:

2019ء میں عالمی ڈیجیٹل معیشت میں امریکہ پہلے، چین دوسرے نمبر پر رہا

ٹرمپ انتظامیہ نے چینی کمپنیوں میں سرمایہ کاری روکنے کیلئے قوانین مزید سخت کر دئیے

امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس کا چارج سنبھالیں گے لیکن اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے چینی کمپنیوں کے خلاف امریکہ میں کاروبار کرنے کے قوانین مزید سخت کر دیے ہیں۔

دنیا کی دو بڑی اقتصادی قوتوں کے درمیان تجارت اور انسانی حقوق جیسے مسائل پر تنازعے میں اضافے کے باعث تعلقات میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ نے دسمبر میں درجنوں چینی کمپنیوں کو تجارت سے بلیک لسٹ کر دیا تھا، امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ بیجنگ اپنی فورمز کے ذریعے ملٹری مقاصد کے لیے سویلین ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔

چینی سفیروں نے امید ظاہر کی تھی کہ جوبائیڈن کے الیکشن جیتنے سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

چین کے سنئیر سفیر وانگ یی نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ‘نئی منزلوں’ تک پہنچیں گے اور انہوں نے امید کے نئے ‘دروازے’ کھلنے کی امید ظاہر بھی کی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here