امیر ممالک غریب ملکوں کی نسبت دوگنا کوڑا کیوں پیدا کر رہے ہیں؟

2025ء تک دنیا میں کچرے کا حجم دُوگنا ہو جائے گا،  کچرے کی شرح میں کمی کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات کرنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے: آئی ایم ایف

432

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ 2025ء تک دنیا بھر میں کچرے کا حجم دو گنا ہو جائے گا، اس وقت تک عالمی سطح پر پھینکا جانے والا کوڑا کرکٹ 2.3 ارب ٹن تک بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ روزانہ پیدا ہونے والے کوڑے کو مناسب طریقہ سے ٹھکانے لگا کر ماحولیات کے مسائل سے تحفظ میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

’جنوبی ایشیا میں 134 ملین انسان پینے کے صاف پانی سے محروم‘

غریب ممالک پرانی گاڑیوں کا ’کباڑ خانہ‘ کیوں بن رہے ہیں؟

چین،  لاک ڈاؤن سے فضائی آلودگی میں کمی، ہزاروں جانیں بچ گئیں

یوکرین کی کمپنی کا پنجاب میں کوڑا کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق امریکا، ڈنمارک اور نیوزی لینڈ جیسے زیادہ آمدنی والے ممالک ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں دوگنا کوڑا پیدا کرتے ہیں۔

امیر ممالک کے باشندے ناصرف زیادہ مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور ان کی ویسٹ دیگر کوڑے کرکٹ کے مقابلہ میں پیپر اور پلاسٹک کا فضلہ زیادہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امیر ممالک میں اوسط فی کس ویسٹ کی شرح زیادہ ہے تاہم ترقی پذیر ممالک دنیا بھر میں پیدا ہونےوالے کل کچرے کا آدھے سے زیادہ حصہ پیدا کرتے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ کچرے کی شرح میں کمی کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات کرے تاکہ کرہ ارض سمیت آبی ذخائر اور ماحولیات کی آلودگی جیسے مسائل سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here