امریکی کانگرس میں 850 ارب ڈالر کے کورونا ریلیف پیکج پر پیش رفت

258

واشنگٹن: امریکی کانگرس میں کئی دنوں کے جمود کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے 850 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج پر پیش رفت ہوئی ہے۔

کانگرس کے چھٹیوں پر جانے سے پہلے اب ری پبلکن اور ڈیموکریٹک اراکین ریلیف پیکیج کے معاہدے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔

سینیٹ میں اکثریتی ری پبلکن پارٹی کے رہنما مچ میک کونل نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے ریلیف پیکج پر معاہدہ کی طرف بات آگے بڑھی ہے اور پیکج کو کانگرس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے پاس کروا لیا جائے گا۔

نئے ریلیف پیکیج کی بنیاد 908 ارب ڈالر کے کانگرس کے دوطرفہ اراکین کے گروپ کی تجویز پر ہے جسے گزشتہ سوموار کو پیش کیا گیا تھا۔

نئے امدادی پیکیج کا بل دونوں جانب سے رکاوٹ ڈالنے والی تجاویز کو الگ کرکے آگے بڑھایا جائے گا۔ ان اختلافی تجاویز میں کاروباروں کے لیے تحفظ، ریاستی اور مقامی سطحوں پر امداد دینا شامل ہے۔

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اگر قانون ساز اس امدادی پیکج پر راضی بھی ہو جائیں تو ان کی آنے والی انتظامیہ نئی کانگرس سے امداد کے لیے اگلے سال کے شروع میں بات چیت کرے گی۔

وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نئے معاہدے کی منظوری دینے سے پہلے اس کی تفصیلات جاننا چاہیں گے۔

واضح رہے کہ اس سال بہت سے امریکیوں کو امریکہ کی تاریخ کے سب سے بڑے امدادی پیکیج کے تحت کورونا وائرس کے بحران پر قابو پانے کے لیے 1200 ڈالر فی کس کے امدادی چیک دیئے گئے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here