’پاکستان 2030ء تک قابل تجدید ذرائع سے 30 فیصد بجلی پیدا کرے گا‘

حکومت غیرملکی کمپنیوں کے تعاون سے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز کی مقامی مینوفیکچرنگ پر غور کر رہی ہے، ندیم بابر کی برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو

211

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولم ندیم بابر نے کہا ہے کہ 2030ء تک انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

جمعرات کو پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسٹین ٹرنر سے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر سے ملاقات کی، اس دوران توانائی کے حوالے دے دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ندیم بابر نے کہا کہ برطانوی کمپنیوں کی پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کو سراہتے ہیں، حکومت پاکستان توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسٹین ٹرنر کی معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر سے ملاقات (فوٹو: پی آئی ڈی)

انہوں نے کہا کہ 2025ء تک ملک کے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 20 فیصد اور 2030ء تک 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا اور پن بجلی کی پیداوار میں 30 سے 40 فیصد کا اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی منصوبوں سے ملک میں سستی اور ماحول دوست توانائی میسر ہو گی، توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

ندیم بابر نے کہا کہ حکومت بعض غیرملکی کمپنیوں کے تعاون سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لئے سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی مقامی طور پر اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ پرغور کر رہی ہے، برطانوی کمپنیوں کو بھی شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔

اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ کی پاکستان کیلئے 1.5 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کریڈٹ سہولت موجود ہے جو دیگر پاکستانی منصوبوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here