پاکستان میں برقی کاروں، بسوں کی مینوفیکچرنگ کیلئے حکومت کا بڑا فیصلہ

قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس، ڈویلپمنٹ بورڈ حکام کی 5 سالہ الیکٹرک وہیکل پالیسی 2021-26ء پر بریفنگ، 50 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی، ٹیکس چھوٹ دینے پرغور

910

اسلام آباد: حکومت نے الیکٹرک وہیکلز سے متعلق پالیسی کو اگلی آٹو پالیسی برائے 2021-26ء میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

موجودہ آٹو پالیسی کے ثمرات کا جائزہ لینے کیلئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ساجد طوری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے حکام نے کمیٹی کو آئندہ پانچ سالہ آٹو موٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی 2021-26ء پر بریفنگ دی۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے حکام نے بتایا کہ حالیہ آٹو پالیسی 2016ء میں متعارف کرائی گئی تھی جو آئندہ سال جون میں ختم ہو رہی ہے، اسی بناء پر وزارت صنعت و پیداوار اپنی الیکٹرک وہیکلز پالیسی کو بھی نئی آٹو پالیسی میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کیلئے مشاورتی عمل پہلے سے مکمل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

الیکٹرک بسیں چلانے کیلئے چین کے بعد جرمن کمپنی کے ساتھ بھی معاہدہ

واکس ویگن نے اپنی پہلی الیکٹرک کار ”آئی ڈی 4“ کی پیداوار شروع کر دی

سفری سہولیات میں انقلاب، پاکستان میں پہلی الیکٹرک بائیک شئیرنگ سروس کا آغاز

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے الیکٹرک وہیکلز پالیسی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 20 سرمایہ کاروں کو الیکٹرک وہیکلز کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے ’گرین فیلڈ سٹیٹس‘ دیا گیا ہے جبکہ حکومت اس میدان میں مسابقت کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے، ہائبرڈ  اور برقی کار سازی کیلئے چھ نئی سرمایہ کار کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

’فور وہیلز وہیکلز کیٹیگری کے شعبے میں نئے سرمایہ کاروں کی آمد کے علاوہ بس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی چارنئی کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہوئی ہیں، نئے سرمایہ کار اب تک 47 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔‘

حماد اظہر نے موجودہ آٹو پالیسی 2016-21ء کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کے آٹو سیکٹر مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، سالانہ چار لاکھ 18 ہزار یونٹس انسٹال کئے جائیں گے، 1800 سی سی تک کی کاروں پر 50 فیصد کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ دی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ الیکٹرک کاروں کے پارٹس پر ایک  فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہو گی، اس میں رجسٹریشن فیس اور سالانہ تجدید کی معافی ہو گی، امپورٹ پر 50 فیصد کسٹم ڈیوٹی پر بھی چھوٹ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی پر ابھی تک کام جاری ہے اور 2 ہفتوں تک پالیسی لے آئیں گے، الیکٹرک وہیکلز کے حوالے سے مختلف ممالک کے ساتھ بھی بات چیت چل رہی ہے، متوازن طریقے سے الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر کام کر رہے ہیں، دوسری انڈسٹری کو بھی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

حماد اظہر نے کہا کہ ہمارا آٹو موٹیو کا شعبہ زیادہ پیچیدہ ہے، دو سے تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے پالیسی موجود ہے۔

کمیٹی کے رکن مصطفیٰ محمود نے کہا کہ یورپ اور برطانیہ میں الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈیز دی جاتی ہیں، پاکستان میں سبسڈیز نہ دیں لیکن ٹیکس کم سے کم ہونا چاہئے، حکومت نے صنعتوں کو فائدہ دیا لیکن عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان میں جو پالیسی لارہے ہیں اس سے بہتری ہوگی۔ رکن کمیٹی محمد اکرم نے کہا کہ ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے ہمارے لوگوں کو فائدہ ہو۔اجلاس میں اراکین اسمبلی سمیت وزارت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here