ای سی سی کا اجلاس: وزارت دفاع و داخلہ کیلئے ضمنی گرانٹس کی منظوری

نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کیلئے پانچ کروڑ تیس لاکھ روپے مختص، فنڈز وزیراعظم آفس میں کامیاب جوان پروگرام کیلئے آئی ٹی خدمات کی فراہمی کیلئے بروئے کار لائے جائیں گے

218

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت دفاع اور داخلہ کے چار مختلف منصوبوں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس جبکہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کیلئے پانچ کروڑ تیس لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس سوموار کو کابینہ ڈویژن میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، مشیر برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، مشیر پٹرولیم ندیم بابر اور مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے شرکت کی، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر ویڈیو لنک کے ذریعہ شریک ہوئے۔

ای سی سی نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی درخواست پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کیلئے جاری مالی سال کے دوران پانچ کروڑ تیس لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری دی، یہ فنڈز وزیراعظم آفس میں کامیاب جوان پروگرام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کی فراہمی کیلئے بروئے کار لائے جائیں گے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے سم و سمارٹ کارڈز کی ملکی سطح پر تیاری کی سمری پر اجلاس میں تفصیلی غوروغوض کیا گیا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے تجویز کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کرنے اور دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کر دی۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ایف بی آر اور سرمایہ کاری بورڈ کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اجلاس میں کینو اور آم کی برآمدات کیلئے نظام الاوقات مرتب کرنے کے حوالہ سے وزارت تجارت اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی سفارش بھی کی گئی، کمیٹی اس ضمن میں تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ گفت وشنید کرے گی۔

اجلاس میں پی آئی اے سی ایل (وزارت ہوابازی) کی جانب سے رضاکارانہ علیحدگی سکیم (وی ایس ایس) کیلئے حکومت کے کیش سپورٹ سے متعلق پیش کردہ سمری کی اصولی منظوری کا فیصلہ کیا گیا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جاری مالی سال کیلئے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے چار مختلف منصوبوں کیلئے چار تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی جبکہ پیٹرولیم  ڈویژن کی تجویز پر بشر ایکس آئی ایس ٹی سے تیسری پارٹی کو ایک ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے کی اجازت دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here