کراچی سرکلر ریلوے کا آزمائشی سفر، بوسیدہ ٹریک پر 14 کلومیٹر دو گھنٹوں میں طے ہوئے

کراچی سرکلر ریلوے کا آزمائشی سفر، اسٹیشنز اور ٹریک بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کی سست رفتاری کے باعث منٹوں میں طے کیے جانے والا سفر کے سی آر کے ذریعے دو گھنٹوں میں طے ہوا

169

کراچی: کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کا آزمائشی سفر شروع کر دیا گیا لیکن ٹرین 14 کلومیٹر کا فاصلہ دو گھنٹوں میں طے کر سکی۔

کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے اورنگی ٹاؤن تک کے آزمائشی سفر کے دوران دو لوکوموٹیوز اور چار بوگیوں کو ٹریک پر چلایا گیا، بوسیدہ ٹریک کی وجہ سے آدھ گھنٹے کا سفر کے سی آر کے ذریعے دو گھنٹوں میں طے ہوا۔

شہریوں نے آزمائشی سفر کے حوالے سے اپنے ردعمل میں بتایا کہ ٹرین کی سست رفتاری کی وجہ ٹریک اور اسٹیشنز کی ابتر حالت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ ریلوے نے 16 نومبر سے پہلی ٹرین چلانے کا اعلان کیا تھا تاہم 14 کلومیٹر ٹریک پر ایک بھی اسٹیشن، پلیٹ فارم یا ٹکٹ آفس صارفین کو بہترین سروسز دینے کے قابل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں ٹرام سروس دوبارہ شروع کرنے پر کام جاری

وفاقی وزیربرائے پاکستان ریلوے شیخ رشید احمد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ 14 کلومیٹر طویل کے سی آر ٹڑیک مکمل تیار ہے جبکہ بقیہ ٹریک سندھ حکومت کی جانب سے بچھایا جائے گا۔ کے سی آر ٹریک پر 10 کے قریب کوچز چلنے کو تیار ہیں جبکہ 40 مزید کوچز پر کام جاری ہے۔

پاکستان ریلویز کے مطابق کے سی آر پروجیکٹ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا، منصوبہ 43.13 کلومیٹر طویل ہے جس میں سے 14.95 کلومیٹر ٹریک زمین پر جبکہ 28.18 کلومیٹر فلائی اوور پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

پہلے مرحلے میں کراچی سٹی اسٹیشن سے اورنگی ٹاؤن تک کے سی آر لائن 32 ٹرینوں کے ساتھ فعال کی جائے گی، اس کے ذریعے یومیہ 16 ہزار مسافر سفر کریں گے جبکہ پہلے مرحلے کی تکمیل پر 1.25 ارب روپے لاگت آئے گی، دوسرے مرحلے میں کے سی آر پر 8.70 ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ تیسرا مرحلہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here