حکومت کا تیل و گیس کے ختم ہوجانے والے ذخائر کے مکمل آڈٹ کا فیصلہ

281

اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر تیل و گیس کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے فرانزک آڈٹ کرانے کے لیے ٹیم تشکیل دے دی۔

فرانزک آڈٹ ٹیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنیوں کی جانب سے ملک کے مختلف ڈرل کیے گئے کنوؤں کے ختم یا بند ہو جانے سے متعلق آڈٹ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نسیم احمد (سابق ای ڈی/ایم ڈی او جی ڈی سی ایل) کی سربراہی میں چار رکنی کور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کنوؤں کے بند یا ختم ہو جانے سے متعلق تجزیہ کرکے ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرائے گی۔

ملک میں گیس کی پیداوار کم جبکہ طلب زیادہ ہے، ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چھ ارب کیوبک فٹ یومیہ (بی سی ایف ڈی) گیس درکار ہے جبکہ اس وقت ملک میں 3.7 بی سی ایف ڈی گیس دستیاب ہے، اور گیس کے ذخائر میں بھی 9.5 فیصد سالانہ کے تناسب سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

تیل و گیس کے پیداواری شعبہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 36.65 فیصد اضافہ 

کراچی کے نزدیک سمندرمیں ڈرلنگ کے دوران تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے، کھدائی ختم

مختلف اداروں کے 15 ارکان آڈٹ کمیٹی کی معاونت کریں گے جن میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) کے تین ارکان، ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی) کے دو ارکان، ماڑی پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) کے دو ارکان اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے بالترتیب چار، چار ارکان شامل ہوں گے۔

مذکورہ کمیٹی کے چئیرمین کو فرانزک فیلڈ مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کا کہا گیا ہے جو ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں، جی ایس پی، ایچ ڈی آئی پی اور پیٹرولیم ڈویژن کے پالیسی ونگ کے نمائندگان پر مشتمل ہوں گی۔

ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کے مطابق فیلڈ ٹیمیں ملک بھر کے بند ہو جانے والے کنوؤں کا دورہ کریں گی اور تکنیکی طور پر پر ان کنوئوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لیں گی۔

مذکورہ ٹیمیں کنوؤں کو دوبارہ سے پیداوار کے قابل بنانے کے لیے ان کے فرانزک آڈٹ کے ذریعے فزیبیلٹی پر بھی نظرثانی کریں گی۔ یہ ٹیمیں ای اینڈ پی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ ٹائم لائن کے اندر نظرثانی کریں گی اور کنوؤں سے پیداوار کے لیے شیڈول کی تجاویز دیں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here