کھاد ساز کارخانوں کیلئے آر ایل این جی کی رعایتی نرخوں پر سپلائی میں فروری تک توسیع کا امکان

191

اسلام آباد: وفاقی حکومت کا یوریا کھاد تیار کرنے والے کارخانوں کو فروری 2021ء تک آر ایل این جی کی رعایتی نرخوں پر سپلائی میں جاری رکھنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے ایگری ٹیک لمیٹڈ اور فاطمہ فرٹیلائزر کو معقول نرخوں پر گیس فراہمی کی مدت میں توسیع کے لیے ایک سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیج دی ہے، وزارت کا خیال ہے کہ یوریا کھاد کی مقامی سطح پر وافر پیداوار گندم کے آئندہ سیزن کے دوران حکومت کو کسی بھی طرح کے ممکنہ بحران پر قابو پانے میں مدد دے گی۔

ای سی سی نے اپنے گزشتہ اجلاس میں وزیرِ صنعت و پیداوار کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، کمیٹی کو کھاد کے متعلقہ کارخانوں کو مزید فعال رکھنے کے لیے تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

یہ بھی مدِنظر رہے کہ رواں برس اگست میں حکومت نے ایگری ٹیک لمیٹڈ اور فاطمہ فرٹیلائزر کو فعال رکھنے کے لیے تین ماہ کے لیے رعایتی نرخوں پر آر ایل این جی فراہم کرنے کی منظوری دی تھی، بعدازاں ای سی سی نے 21 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس کے دوران گیس سپلائی کے دورانیہ میں 31 دسمبر تک توسیع کر دی۔

یہ بھی پڑھیے:

ستمبر میں یوریا کھاد کی فروخت میں کمی

ای سی سی نے کسانوں کیلئے کھاد پر سبسڈی کی منظوری دیدی

یوریا کی فروخت میں ممکنہ اضافہ

گزشتہ ہفتے وزارتِ خوراک اور نیشنل فرٹیلائزر ڈویلپمنٹ سینٹر(این ایف ڈی سی) نے حکومت کو ربیع کے سیزن میں یوریا کھاد کی فروخت میں 10 فیصد اضافے کا تخمینہ دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خوراک اور این ایف ڈی سی نے گندم کی کم سے کم امدادی قیمت میں حالیہ اضافے اور وفاق اور صوبوں کی جانب سے کسانوں کو یوریا کھاد کی سبسڈی کے منصوبے کی بنیاد پر تخمینہ لگایا تھا۔

کھاد سبسڈی پیکیج

مزید برآں حکومت 37 ارب روپے کے کھاد سبسڈی پیکیج کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کے تحت مرکز اور صوبائی حکومتیں کسانوں کو کھاد کی خریداری پر سبسڈی دیں گی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کسانوں کو یوریا کھاد کے فی تھیلے کے عوض 200 روپے کی سبسڈی فراہم کرنے پر رضامند ہوئی ہے، تاہم سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں سبسڈی دینے کے لیے وفاقی حکومت سے رقم فراہم کرنے کی درخواست کر رہی ہیں، وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here