کرنسی کی مسلسل تنزلی، ترک صدر کا بڑا اقدام

156

انقرہ: کورونا وائرس کی وبا اور دیگر عوامل کے باعث ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 30 فیصد تک گر چکی ہے جس پر ترک مرکزی بینک کے سربراہ کو عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں انتخابات کے باعث کاروباری غیریقینی کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں گراوٹ کے باوجود ترک کرنسی لیرا کی ڈالر کے مقابلے میں 8.58 فیصد تک ریکارڈ تنزلی دیکھنے میں آئی۔

کرنسی کی مسلسل تنزلی کو وجہ بناتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان نے مرکزی بینک کے گورنر کو عہدے سے فارغ کرکے ان کی جگہ سابق وزیرخزانہ کو گورنر مقرر کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی بینک کے گورنر کو صدارتی حکم نامے کے تحت فوری طور پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے تاہم ان کو ہٹائے جانے کی دیگر کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق طیب اردوان نے عہدے سے ہٹائے جانے والے مرکزی بینک کے گورنر کو 2019 میں عہدے پر تعینات کیا تھا۔

مرکزی بینک کے نئے گورنر 2015 سے 2018 تک ترکی کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں جس کے بعد انہیں صدرت کے اسٹریٹیجی اور بجٹ کے ڈائریکٹوریٹ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here