چین، بھارت کے بجائے بڑے عالمی برانڈز پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا رُخ کیوں کر رہے ہیں؟

کورونا کے پیدا کردہ معاشی و کاروباری حالات میں بہتری آنے پر دنیا کے بڑے برینڈز جیسا کہ Hanes, Guess, Hugo Boss اور Target نے اپنے آرڈرز پاکستان منتقل کردیے ہیں جس سے ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اپنا لوہا منوانے کا سہنری موقع میسر آگیا ہے۔

2400

لاہور : کورونا وائرس کی وباء کے باعث پیدا ہونے والی معاشی زبوں حالی میں کمی آنے پر دنیا کے معروف اپیرل (Apparel) برانڈز نے پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا رُخ کر لیا ہے جسے بڑی تعداد میں آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔

یہ صورت حال ٹیکسٹائل سیکٹر میں مسابقتی ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش، چین اور بھارت میں کورونا وائرس کی پیدا کردہ صحت اور معاشی صورتحال بہتر نہ ہونے کے باعث پیش آئی ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ”زیادہ سے زیادہ برانڈز اپنے آرڈرز پاکستان کو دے رہے ہیں، Hanes, Guess, Hugo Boss اور Target نے اپنے آرڈرز چین سے پاکستان منتقل کر دیے ہیں۔‘‘

رزاق دائود کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک اچھی پیشرفت ہے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ برآمد کنندگان اس صورتحال سے فائدہ اُٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

مالی سال 2021 میں پاکستانی معیشت کس حال میں ہوگی؟ آئی ایم ایف رپورٹ جاری

’ٹیکسٹائل سیکٹر میں چند مصنوعات پر اضافی کسٹمز، ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹانے کی منظوری‘

Hugo Boss نے اپنے سپورٹس وئیر کی تیاری کا آرڈر سیالکوٹ کی ایک ٹیکسٹائل فرم کو دیا تھا جو پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز  ایسوسی ایشن کی کوششوں کا نتیجہ ہے جس نے گزشتہ برس نومبر میں پاکستان میں 35واں  آئی اے ایف فیشن کنونشن منعقد کروایا تھا۔

اُدھر ملکی اپیرل مینوفیکچررز کے تحفظات اور مسائل کے حل کے لیے وزارت تجارت نے مختلف اقسام کے دھاگے پر ڈیوٹی میں کمی کی سمری پر کام شروع کر دیا ہے جسے منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھجوایا جائے گا۔

اس حوالے سے مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ اپیرل ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کا انجن ہوتا ہے اور یارن کی مسابقتی قیمتوں پر دستیابی اس کی طاقت ہے۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کے لیے دیگر تمام شعبوں کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here