’ڈیٹا سیکورٹی، موثر سائبر قوانین کی بدولت ہی پاکستان میں ای کامرس کو فروغ دیا جا سکتا ہے‘

مالیاتی اعدادوشمار کا تحفظ انتہائی اہم، ٹیلی کام کمپنیوں کو صارف کی ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا: ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام آن لائن مکالمہ میں ماہرین کی گفتگو

72

اسلام آباد: ماہرین نے کہا ہے کہ ڈیٹا سیکورٹی اور موثر سائبر قوانین کی بدولت پاکستان میں ای کامرس کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

جمعرات کو سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام خصوصی آن لائن مکالمہ کے انعقاد کیا گیا، ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے موضوع کی مختلف جہتوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مالیاتی اعدادوشمار کا تحفظ انتہائی اہمیت رکھتا ہے جس کا مطالبہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے بھی کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے جن میں ایف آئی اے بھی شامل ہے، اعدادو شمار کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں، موثر نتائج کے لیے عمل درآمد کی صورتحال بہتر بنانا ہو گی۔

ڈآکٹر سلہری نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو بھی صارف کی ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا۔ انہوں نے براڈ بینڈ انٹرنیٹ تک رسائی کی صورتحال میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آن لائن کاروبار تک سب کو برابر رسائی مہیا کی جانی چاہئے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونی کیشن کے ڈائریکٹر (آئی ٹی) محمد بلال عباسی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو برآمدات کے لیے روایتی منڈیوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی درآمدی منڈی کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان آن لائن کاروباروں کو فروغ دے کر پیسہ واپس ملک میں لا سکتا ہے اور اس سے ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہو گا۔

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ محمود الحسن نے پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات کے صارفین کی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شناخت کی چوری اور ہیکنگ اس ضمن میں سب سے اہم مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سال 2019ء کے دوران ای کامرس اور آن لائن ٹریڈنگ کے ضمن میں 12 ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ انہوں نے شہریوں کو محفوظ آن لائن تجارت کے بارے میں آگاہی دیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ بے شمار کمپنیوں کے پاس سائبر سیکورٹی سے تحفظ کی حامل سہولتیں موجود نہیں جنہیں ان کی ضرورت کے مطابق اس مسئلے کا حل بہم پہنچایا جانا چاہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قواعد اور متعلقہ قوانین دوسرے ممالک کے ساتھ ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔ آن لائن کاروباروں کی طرف سے سامنے لائی جانے والی شکایات کا ازالہ نہ ہونا بھی ڈیجیٹل پیش رفت کے لئے حوصلہ شکنی کا باعث ہے۔

ٹیلی کام کمپنی یوفون کے سینئر مینجر فواد نیازی نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد آن لائن کاروباروں کا فروغ دیکھنے میں آیا تاہم مناسب سہولتوں کی بدولت ای کامرس کے ضمن میں صارفین کے خدشات دور کرنے میں مدد ملے گی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ترغیب کے لئے بھی معیشت کو آن لائن بنیادوں پر استوار کرنا اہم ہو گا۔

سٹریٹجک پلاننگ کے ماہر منیب سکندر نے کہا کہ پاکستان کو گلوبل ٹریڈ فسیلی ٹیشن ایگریمنٹ (Global Trade Facilitation Agreement) کی مطابقت سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here