پشاور، تاجروں نےضلعی انتظامیہ کی جانب سے اشیائے خورونوش کی نئی پرائس لسٹ مسترد کردی

50

پشاور: پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر قابو پانے اور مارکیٹوں میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے جاری کی گئی نئی قیمتوں کی فہرست کو تاجروں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نئی جاری کردہ فہرست میں چاول، دالیں، دودھ، گوشت اور مختلف اشیائے خورونوش کے نرخ مقرر کیے گئے تھے، نئی فہرست کے تحت چپلی کباب 450 روپے فی کلو، مٹن 810 روپے فی کلو جبکہ قیمہ 400 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے تمام دکانداروں کو نئی قیمتوں کی فہرست پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے، خلاف ورزی کی صورت میں انتظامیہ سخت کارروائی کرے گی۔ تاجروں نے مذکورہ فہرست کو مبینہ طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ مہنگائی کو کنٹرول نہ کرنے پر اپنی ناکامی کا ملبہ چھوٹے تاجروں پر عائد کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ملک بھر میں بے لگام مہنگائی کی مجموعی شرح 9.20 فیصد تک جا پہنچی

نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس، مہنگائی پر قابو پانے کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیدیا

تاجروں نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ “حکومت اور انتظامیہ بڑے مافیا کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور اب وہ مہنگائی کاملبہ چھوٹے تاجروں پر ڈال رہے ہیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل ہو رہا ہے جو حکومت کے بس سے باہر ہے، اسی لیے انہیں نرخ مقرر نہیں کرنے چاہییں”۔

تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے 2019 میں اشیاء کے نرخ مقرر کیے تھے لیکن اب حالات مختلف ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ احکام کے مطابق ہر طرح کی دالیں اور چاول کے نرخوں کی فہرست اردو میں آویزاں کی جائے تاکہ شہری نرخوں کو سمجھ سکیں۔ ضلعی انتظامیہ نے تیل کے دوبارہ استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اسی طرح، گوشت فروخت کے لیے دستیاب ہو گا لیکن چکن کباب نہیں بیچیں جائیں گے۔

پشاور کے رہائشی ارشاد علی خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے جب کبھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ردوبدل کیا اس پر عملدرآمد کرانے میں بُری طرح ناکام رہی، خیبرپختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں گزشتہ دو سال سے افراطِ زر کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

خان نے کہا کہ “ضلعی انتظامیہ کے حکام نے شہریوں کو ریلیف دینے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کبھی بھی دلچسپی نہیں لی”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here