چین میں کمرشل بنکوں سے متعلق قانون میں ترمیم ، دائرہ کار وسیع کردیا گیا

25 سالہ پرانا قانون موجودہ دور کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام تھا، ترمیم شدہ قانون متعدد معاملات سے متعلق رہنمائی فراہم کرے گا اور اس کا اطلاق ملکی مالیاتی نظام میں کام کرنے والے تمام مقامی و غیر ملکی اداروں اور انکی شاخوں پر ہو گا

58
FILE PHOTO: A man wearing a mask walks past the headquarters of the People's Bank of China, the central bank, in Beijing, China, as the country is hit by an outbreak of the new coronavirus, February 3, 2020. REUTERS/Jason Lee/File Photo

بیجنگ : چین کے مرکزی بنک نے ملک میں کمرشل بنکوں سے متعلق 25 سال پرانے قانون میں تبدیلی کر دی، ترمیم کے بعد اس قانون کے دائرہ کار میں اضافہ  ہو گیا ہے۔

نئے قانون کا اطلاق  پالیسی بنکوں، رورل کریڈٹ کوآپریٹو بنکوں، کمرشل بنکنگ کے کاروبار سے وابستہ مالیاتی کمپنیوں، غیر ملکی کمرشل بنکوں اور ان کی تمام برانچز پر ہو گا، مرکزی بنک کے اس اقدام سے چین کی مالیاتی مارکیٹ میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔

مزید برآں یہ قانون رسک ریٹنگ اور ری سٹرکچرنگ، بروقت تصحیح اور دیوالیہ  ہو جانے والے قرض داروں کے ٹیک اوور سے متعلق بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

وفاقی کابینہ نے ایگزم بنک آف پاکستان ایکٹ 2020 کے نفاذ کی منظوری دے دی

یوتھ انٹرپرینیورشپ کیلئے 21 بنکوں کی 15 ارب کے قرضے دینے کی یقین دہانی

چین میں کمرشل بنکوں سے متعلق قانون پہلی مرتبہ 1995ء میں لاگو کیا گیا جس میں پہلے  2003ء، پھر 2015ء اور اب تیسری مرتبہ ترامیم کی گئی ہیں۔

اس قانون میں حالیہ ترمیم کی ضرورت موجودہ دور کے تقاضے پورے نہ ہو پانے کے باعث کی گئی، حال ہی میں چھوٹے بنکوں جیسا کہ Baoshang Bank, Bank of Jinzhou and Hengfeng Bank کے بیل آؤٹ نقائص سے بھرپور رہے تھے جنھیں دور کرنے کے لیے اب اس قانون کو تبدیل کردیا گیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here