حکومت نے ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کام تیزکردیا

لاہور، کراچی، ملتان اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو مکمل کرنے کے لیے نئے قوانین تیار، آؤٹ سورسنگ آپشنز، سول ایوی ایشن کی تشکیل نو اور عدالتی تحفظات دور کرنے پر کام شروع

233

اسلام آباد: ایوی ایشن ڈویژن نے ملک کے بڑے ہوائی اڈوں ( لاہور، کراچی، ملتان، اسلام آباد) کو آؤٹ سورس کرنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا کام شروع کردیا۔

ذرائع کا پرافٹ اردو کو بتانا تھا کہ اس مقصد کے لیے ایوی ایشن ڈویژن نے وزارت قانون کو پراسیسنگ کے لیے تین بل بھیجے ہیں جن میں سول ایوی ایشن بل 2020،  سول ایوی ایشن اتھارٹی آرڈیننس ترمیمی بل 2020 اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی بل 2020 شامل ہیں۔

مزید برآں ایوی ایشن ڈویژن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کرچکی ہے جس کے تحت اختیارات میں کمی کے ساتھ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے نام سے  دو مختلف اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ وزارت قانون سے بلوں کی منظوری ملنے کے بعد سول ایوی ایشن ڈویژن ایک ہفتے میں کابینہ کمیٹی کے سامنے سول ایوی ایشن بل 2020،  سول ایوی ایشن اتھارٹی آرڈیننس ترمیمی بل 2020 سمری کی صورت میں منظوری کے لیے پیش کردے گا۔

انکا مزید بتانا تھا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی بورڈ کو سول ایوی ایشن سروس قوانین میں ترمیم کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں باضابطہ منظوری 30 ستمبر کو دی جائے گی۔

پرافٹ کو حاصل دستاویزات کے مطابق ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل دو مرحلوں میں کیا جائے گا اور بہترین آؤٹ سورسنگ کے لیے آڈٹ فرم کی خدمات پہلے مرحلے میں حاصل کی جائیں گی جبکہ  ٹرانزیکشن کے لیے مالیاتی مشیر کی خدمات دوسرے مرحلے میں حاصل کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ یہ تجویز بھی دی جارہی ہے کہ معاملے کے حوالے سے کابینہ کی پہلی والی کمیٹی کے بجائے پہلے مرحلے کے لیے وزیر ہوابازی کی سربراہی میں وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری، سرمایہ کاری بورڈ کے چئیرمین اور سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن پر مشتمل نئی کمیٹی قائم کی جائے جو چار ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ وفاقی حکومت ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری عبد الرزاق داؤد کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی ہے۔

جس میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ریگولیٹر کا کام کرے گی جبکہ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی ہوائی اڈوں کے کمرشل امور کی ذمہ دار ہوگی۔

موجودہ  سول ایوی ایشن کی تقسیم کی منظوری سی اےاے کے بورڈ سے لی جائے گی۔

اس کمیٹی کا اپنی سفارشات میں مزید کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں کو اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک کی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کرنے سے اجتناب برتا جائے۔

اُدھر ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کے حوالے سے آپشنز کا تعین کرنے کے لیے مشیر تجارت و سرمایہ کاری، وزیر ہوابازی، مشیر برائے انسانی وسائل و اوور سیز پاکستانیز،  مشیر برائے پارلیمانی امور، سرمایہ کاری بورڈ کے چئیرمین اور ایوی ایشن ڈویژن کے سیکرٹری پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

اس کمیٹی کے اب تک چھ اجلاس ہوچکے ہیں اور یہ اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرچکی ہے۔

پرافٹ کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مطابق سول ایوی ایشن آرڈیننس 1960 کو نئے سول ایوی ایشن بل 2020 سے تبدیل کرنے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی آرڈیننس 1982میں ترمیم کی تجویز ہے جس کے تحت اتھارٹی سے ائیرپورٹ سروسز اور نیوی گیشن کا اختیار لے لیا جائے گا۔

اسی طرح پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے قیام کی منظوری ملنے کے بعد پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی بل 2020 کی تشکیل کی جائے گی جس کے تحت ہوائی اڈوں کا انتظام اور نیوی گیشن کا اختیار نئی اتھارٹی کو منتقل کردیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ وزیراعظم کو ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے  جس میں عدالت نے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو ائیرپورٹ سروسز جیسا کہ کار پارکنگ تک محدود کرنے کی ہدایت کررکھی ہے۔

مزید برآں وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے 19 فروری  2020 کے حکم نامے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا ہے جس میں کراچی میں جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے گرد کسی قسم کی کمرشل سرگرمیوں سے منع کیا گیا ہے۔

پرافٹ کے ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ وفاقی حکومت نے ایوی ایشن ڈویژن کو ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے عدالتوں کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے معاملہ کابینہ کی لا کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here