کبھی منی لانڈرنگ نہیں کی، احسن اقبال کےالزامات کی کوئی بنیاد نہیں : صدر نیشنل بنک

قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں رہنما مسلم لیگ نے صدر و چیف ایگزیکٹیو آفیسر نشینل بنک آف پاکستان پر نائجیریا میں کام کے دوران مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، مجھے نائجیریا کی عدالت سمیت پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی ریگولیٹری باڈیز نے کلیر قرار دیا : عارف عثمانی

68

کراچی : نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر عارف عثمانی نے اپنے اوپر لگائے گئے منی لانڈرنگ کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

ان پر یہ الزامات مسلم لیگ ن کے ایم این اے احسن اقبال نے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے اجلاس میں لگائے۔

کمیٹی اجلاس میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ صدر اور سی ای او نیشنل بنک عارف عثمانی نائجیریا میں سروس کے دوران منی لانڈرنگ میں ملوث رہے۔

انکا کہنا تھا کہ ملک کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بلیک لسٹ میں ڈالے کا جانے کا خطرہ لاحق ہے اور قومی بنک کے سربراہ مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔

پرافٹ اردو نے اس حوالے سے نیشنل بنک کے صدر اور سی ای او سے بات چیت کی جس میں انکا کہنا تھا کہ ان پر لگائے گئے منی لانڈرنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

جولائی 2001 سے  ستمبر 2002 تک عثمانی ویسٹ افریقہ ریجن کے ہیڈ اور سٹی بنک نائجیریا کے ایم ڈی کے عہدے پر تعینات رہے۔

2013 میں نائیجیریا کی نیشنل ڈرگ لا انفورثمنٹ ایجنسی نے عثمانی اور بنک کے ایک اور ملازم کے خلاف ملک کی فیڈرل ہائی کورٹ میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کردیا۔

پراسیکیوشن نے الزام عائد کیا کہ سٹی بنک جس کے سربراہ عارف عثمانی تھے ایک غیر ملکی ٹرانزیکشن بارے نائجیریا کے مرکزی بنک کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا۔

اس حوالے سے پرافٹ نے دو دستاویزات حاصل کیے جو کہ نیشنل بنک آف پاکستان کی جانب سے ہی فراہم کی گئیں۔

 ان میں سے ایک دستاویز نائجیریا کی فیڈرل ہائی کورٹ کا فیصلہ تھی جس میں کہا گیا کہ عارف عثمانی کے خلاف لگائے گئے منی لانڈرنگ کے الزامات پراسیکیوشن کی غیر سنجیدگی کے باعث کلعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

دوسری دستاویز سٹی بنک نائجیریا کی جانب سے جاری ایک لیٹر تھا جس میں کہا گیا کہ عثمانی نے کوئی منی لانڈرنگ نہیں کی۔

پرافٹ سے گفتگو میں نیشنل بنک کے صدر کا کہنا تھا کہ  نائجیریا میں سٹی بنک میں کام کے دوران منی لانڈرنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کے بعد میں نے تین دیگر ممالک میں چار مختلف بنکوں میں کام کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے تین مختلف ممالک کی ریگولیٹری باڈیز کی جانب سے کلیر کیا گیا۔

عثمانی نومبر 2003 سے اگست 2007 تک سعودی عرب میں سامبا فنانشل گروپ کے چیف رسک آفیسر رہے جبکہ جنوری 2008 سے مارچ  2012 تک وہ پاکستان میں سٹی بنک کے مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات رہے۔

مزید برآں مارچ 2012 سے اکتوبر 2013 تک وہ ابو ظہبی اسلامک بنک میں ہول سیل بنکنگ کے گلوبل ہیڈ رہے۔ اس کے علاوہ نومبر 2017 سے فروری  2019 تک وہ مشرق بنک کے چیف رسک آفیسر رہے ۔ ان دونوں بنکوں کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔

نیشنل بنک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر منی لانڈرنگ کے الزامات کی  کوئی حقیقت ہوتی تووہ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ریگولیٹری باڈیز سے کلیر قرار نہ دیے جاتے ۔

معاملے کے حوالے سے عارف عثمانی کا قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو اور پرافٹ سے بات چیت میں کہنا تھا کہ یہ معاملہ ممکنہ طور پر اس لیے سامنے آیا ہے کیونکہ انہوں نے سٹی بنک نائجیریا کے ایک ملازم کو نوکری سے نکالا تھا۔

جس کی بیوی اب نائجیریا میں اپنے سیاسی اور صحافتی تعلقات کی بنا پر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here